نئی دہلی: اسدالدین اویسی نے بدھ کے روز مرکزی وزیر کرن رجیجو پر شدید حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ پروپیگنڈا پھیلا کر ملک کے مسلمانوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی منظم کوشش کر رہے ہیں۔ یہ تنازع اس مبینہ بیان کے بعد شروع ہوا جس میں کرن رجیجو نے مسلمانوں کی اقلیتی حیثیت کا موازنہ پارسی برادری سے کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی اتنی زیادہ ہے کہ وہ دنیا کا چھٹا بڑا ملک بن سکتی ہے، جبکہ پارسیوں کی تعداد محض تقریباً 53 ہزار ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کرن رجیجو کو ’’Minister Against Minorities‘‘ یعنی ’’اقلیت مخالف وزیر‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے آئین ہند کے آرٹیکل 30 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ ہندوستان ہندو اکثریتی ملک ہے، اس لیے ہر غیر ہندو طبقہ قانونی طور پر اقلیت شمار ہوگا۔ اویسی نے لکھا: ’’سادہ ریاضی کا سوال ہے، 79.8 فیصد بڑا ہے یا 14 فیصد؟ اگر ہندو اکثریتی برادری ہیں تو ہر غیر ہندو گروہ اقلیت ہے۔ وزیر مسلمانوں کے بنیادی حقوق چھیننے کے لیے پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔‘‘
Simple math question for @KirenRijiju what is bigger? 79.8% or 14%? If Hindus are the majority community, then every non-Hindu group is a minority community. The minister is indulging in propaganda to deny Muslims their fundamental rights under Article 30. If we accept the… pic.twitter.com/j1jj1jVIGC
— Asaduddin Owaisi (@asadowaisi) May 19, 2026
لسانی اقلیتوں کی مثال دے کر رجیجو کے موقف کو چیلنج
اویسی نے کرن رجیجو کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے لسانی اقلیتوں کی مثال بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر محض آبادی کی بڑی تعداد کی بنیاد پر کسی گروہ کو اقلیت ماننے سے انکار کیا جائے، تو پھر غیر ہندی ریاستوں میں رہنے والے ہندی بولنے والوں کو بھی لسانی اقلیت نہیں مانا جانا چاہیے، حالانکہ ان کی تعداد امریکہ اور کینیڈا کی مجموعی آبادی سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ طرز فکر آئینی اصولوں کے خلاف ہے اور اس سے اقلیتوں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
ووٹر فہرستوں کی جانچ، این آر سی اور این پی آر پر بھی اعتراض
یہ بیان بازی اس وقت مزید تیز ہوگئی جب رواں ماہ مہاراشٹر کے چھترپتی سمبھاجی نگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اویسی نے ووٹر لسٹ کی خصوصی جانچ (SIR) پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسلمانوں کو ایک ’’منصوبہ بند ایجنڈے‘‘ کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے اور خصوصی نظرثانی مہم کو این آر سی (NRC) اور این پی آر (NPR) جیسے متنازع شہریت کے نظام سے جوڑا جا رہا ہے۔ اویسی نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ نے ’’میپنگ‘‘ لازمی قرار دی ہے اور اگر میپنگ نہ کی جائے تو والدین کے ناموں کی بنیاد پر جانچ کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جانچ کے لیے استعمال ہونے والی ایپ لوکیشن ٹریکنگ کے ذریعے کام کرتی ہے اور 27 لاکھ ناموں کی جانچ میں 97 فیصد مسلمان شامل تھے۔ انہوں نے کہا: ’’مسلمانوں کو نفرت پر مبنی منصوبہ بند ایجنڈے کے تحت پھنسایا جا رہا ہے۔ اس پورے معاملے کو عدالت کے سامنے رکھا جائے گا۔‘‘ اویسی نے اپنے حامیوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔
بھارت ایکپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




