بھارت کے چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت نے مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے بڑھتے اثرات اور اس سے جڑے سماجی خطرات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اگر انسانی اقدار اور سماجی انصاف سے دور ہو جائے تو یہ معاشرے میں نئی قسم کی ناانصافیاں پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی میں غریب اور کمزور طبقات کے خلاف فطری تعصب پائے جانے کے امکانات موجود ہیں، اس لیے ایک منصفانہ اور انسانی معاشرے کی تشکیل کے لیے سماجی انصاف اور انسانی وقار کو مرکزی حیثیت دینا ناگزیر ہے۔ چیف جسٹس بدھ کے روز دہلی میں ”ریسپیکٹ انڈیا“ کی جانب سے منعقدہ آٹھویں دنکر اسمرتی لیکچر سے خطاب کر رہے تھے۔ اس سال لیکچر کا موضوع ”رشمی رتھی: سماجی انصاف کا مہاکاویہ“ رکھا گیا تھا، جس میں ملک کی عدلیہ، تعلیمی اداروں، ثقافتی حلقوں اور عوامی زندگی سے وابستہ کئی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ مساوات، انسانی وقار اور انصاف کے جن اصولوں کو بھارت کے آئین میں جگہ دی گئی ہے، ان کی جھلک عظیم شاعر رام دھاری سنگھ دنکر کی تخلیقات میں کئی دہائیاں پہلے ہی نظر آتی ہے۔
انہوں نے دنکر کی مشہور رزمیہ نظم ”رشمی رتھی“ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تخلیق میں سماج کے محروم اور نظر انداز طبقات کے درد، خودداری اور انصاف کی آواز کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایک صحت مند معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں ہر فرد کو عزت، مساوات اور انصاف حاصل ہو، چاہے اس کی معاشی یا سماجی حیثیت کچھ بھی ہو۔ چیف جسٹس نے کہا کہ صرف قوانین بنا دینا کافی نہیں ہوتا بلکہ ضروری یہ ہے کہ معاشرے میں ہر انسان کو عزت اور وقار کے ساتھ دیکھا جائے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ دنکر کی تخلیقات سامنے آنے کے سات دہائیاں گزرنے کے باوجود آج بھی سماجی نابرابری، طبقاتی تفریق اور محرومی جیسے مسائل برقرار ہیں۔ ان کے مطابق آج کے دور میں سماجی انصاف کے اصولوں کو محض تقاریر تک محدود رکھنے کے بجائے عملی زندگی میں نافذ کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
جسٹس سوریہ کانت نے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی انسانوں کی سہولت کے لیے بنائی جاتی ہے، لیکن اگر اس کی تربیت اور ڈیٹا میں تعصب شامل ہو تو اس کے نتائج غریب اور کمزور طبقات کے خلاف جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کے ذریعے فیصلوں میں شفافیت، مساوات اور اخلاقی اصولوں کو یقینی بنانا حکومتوں، عدلیہ اور سماج سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس موقع پر شمال مشرقی دہلی سے رکن پارلیمنٹ منوج تیواری کو ”دنکر سنسکرتی سمان 2026“سے نوازا گیا۔ انہیں یہ اعزاز دنکر کی ادبی اور ثقافتی وراثت کو آگے بڑھانے اور سماجی و ثقافتی میدان میں خدمات انجام دینے پر دیا گیا۔ اعزاز حاصل کرنے کے بعد منوج تیواری نے کہا کہ دنکر کی شاعری آج بھی نوجوان نسل کو حق، انصاف اور قومی شعور کی ترغیب دیتی ہے۔
پروگرام کی صدارت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر وکاس سنگھ نے کی۔ انہوں نے کہا کہ دنکر کی تحریریں بھارت کی تہذیب اور انصاف پر مبنی اقدار کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ”ریسپیکٹ انڈیا“ کے بانی منیش کمار چودھری نے کہا کہ اس پلیٹ فارم کا مقصد ثقافت، سماجی ذمہ داری اور انسانی اقدار کو ایک ساتھ جوڑنا ہے۔ تقریب میں بھارت ایکسپریس کے چیئرمین اپیندر رائے سمیت عدلیہ، تعلیم، ادب اور عوامی زندگی کی کئی معروف شخصیات نے شرکت کی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ تیزی سے بدلتے تکنیکی دور میں دنکر کے افکار پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں کیونکہ وہ انسانیت، مساوات اور سماجی انصاف کا پیغام دیتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
