Bharat Express DD Free Dish

CJI Surya Kant

اپنے بھائی کے قتل کے معاملے میں سزا کاٹ رہے 105 سالہ رسک چندر منڈل کو سپریم کورٹ نے بڑی راحت دی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے ان کی انتہائی عمر اور خراب صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے عمر قید کی سزا معاف کر دی ہے۔ اب انہیں دوبارہ جیل نہیں جانا ہوگا۔

سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کے صدروکاس سنگھ نے چیف جسٹس سوریہ کانت کی بنچ کے سامنے دہلی کے 16 میٹرو اسٹیشنوں کو بند کئے جانے کا معاملہ اٹھایا۔ وکاس سنگھ نے کہا کہ وکلا اور رجسٹری عملے کی اسکریننگ کی جا سکتی ہے، لیکن اسٹیشن بند ہونے سے عدالتی کام متاثر ہو رہا ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگرلنچ تک اسٹیشن کھولنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا توعدالت اس میں مداخلت کرسکتی ہے۔

بھارت کے چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت نے مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے بڑھتے اثرات اور اس سے جڑے سماجی خطرات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اگر انسانی اقدار اور سماجی انصاف سے دور ہو جائے تو یہ معاشرے میں نئی قسم کی ناانصافیاں پیدا کر سکتی ہے۔

معروف قومی شاعر رام دھاری سنگھ دنکر کی شہرۂ آفاق تخلیق ”رشمی رتھی“ کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر دہلی میں ایک شاندار فکری و ادبی تقریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس باوقار تقریب میں ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت بطور مہمان خصوصی مرکزی خطاب پیش کریں گے۔ اس موقع پر بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے چیئرمین و ایڈیٹر ان چیف اپیندر رائے بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سی جے آئی نے رجسٹرار (جوڈیشل) کو ہدایت دی کہ ایک “فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی” تشکیل دی جائے، جو اس بات کی مکمل تحقیقات کرے کہ مارچ 2026 کے حکم پر عمل کیوں نہیں کیا گیا اور اس میں کس سطح پر کوتاہی برتی گئی

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی یاد دلایا کہ ہندوستانی قانون کے تحت ہر ملزم کو اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے جب تک اس کا جرم ثابت نہ ہو جائے۔ عدالت نے کہا کہ محض الزام کی بنیاد پر کسی شخص کو ذلت آمیز یا غیر انسانی حالات میں ڈالنا آئینی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس سوریہ کانت نے بھارت کے عدالتی نظام میں نچلی عدالتوں کی اہمیت پر زور دیا۔ بار اینڈ بینچ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ قوانین کی تشریح کرتے ہیں،

جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ فوجیوں کو سخت موسمی حالات، محدود سہولیات اور طویل تعیناتی کے باعث کئی بار ذاتی اور قانونی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں عدالتوں تک رسائی یا قانونی مدد حاصل کرنا ان کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس نے اس بات پر زور دیا کہ عدالتی نظام کو مزید مؤثر اور حساس بنانے کی ضرورت ہے تاکہ دور دراز علاقوں میں تعینات اہلکار بھی انصاف سے محروم نہ رہیں۔

تین ججوں کی بنچ سے خارج عرضی دوسری بنچ تک کیسے پہنچی؟ داخلی نظام پر سوال، اصلاحات کا عزم۔ چیف جسٹس نے اسے عدالت کی داخلی لسٹنگ پالیسی اور طریقۂ کار کی واضح خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اس نوعیت کا واقعہ عدالتی نظم و نسق پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔