نئی دہلی: امت شاہ نے بدھ کے روز لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کے بیرون ملک دوروں اور پارلیمنٹ میں کم شرکت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جب ایوان میں بولنے کا موقع آتا ہے تو راہل گاندھی اکثر جرمنی یا انگلینڈ میں نظر آتے ہیں اور بعد میں شکایت کرتے ہیں کہ انہیں بولنے نہیں دیا جاتا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اپوزیشن کی جانب سے اسپیکر اوم برلا کے خلاف پیش کی گئی عدم اعتماد کی قرارداد پر بحث جاری تھی۔
بولنے سے روکنے کے الزام کو کیا مسترد
وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ راہل گاندھی یہ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں ایوان میں بولنے نہیں دیا جاتا، حالانکہ پارلیمنٹ میں بولنے کا فیصلہ ارکان خود کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں لوک سبھا کے اعداد و شمار کے مطابق کانگریس کے ارکان نے مجموعی طور پر 157 گھنٹے 55 منٹ تک گفتگو کی، لیکن سوال یہ ہے کہ اس دوران راہل گاندھی نے کتنا وقت گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی اسپیکر نے انہیں بولنے سے نہیں روکا اور لوک سبھا کو بدنام کرنے کے لیے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔
پریس کانفرنس پر بحث کی تجویز پر طنز
امت شاہ نے راہل گاندھی کی اس تجویز پر بھی طنز کیا جس میں انہوں نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس پر ایوان میں بحث کی بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کوئی بازار نہیں جہاں کسی کی پریس کانفرنس پر بحث ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی پارلیمانی تاریخ میں کسی بھی رہنما کی پریس کانفرنس پر لوک سبھا میں بحث نہیں ہوئی۔ امت شاہ نے راہل گاندھی کی پارلیمانی حاضری کے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق:
سترہویں لوک سبھا میں راہل گاندھی کی حاضری 51 فیصد تھی جبکہ قومی اوسط 66 فیصد رہی۔
سولہویں لوک سبھا میں ان کی حاضری 52 فیصد اور قومی اوسط 80 فیصد تھی۔
پندرہویں لوک سبھا میں ان کی حاضری 43 فیصد رہی جبکہ قومی اوسط 76 فیصد تھی۔
اسپیکر کے عہدے کا دفاع
امت شاہ نے اپوزیشن کی جانب سے اسپیکر اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا اقدام پارلیمانی ادارے کے وقار کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً چار دہائیوں کے بعد پہلی بار لوک سبھا کے اسپیکر کے خلاف ایسی قرارداد پیش کی گئی ہے، جو پارلیمانی سیاست کے لیے افسوسناک ہے۔ واضح رہے کہ بعد میں لوک سبھا نے اپوزیشن کی اس قرارداد کو آواز کے ووٹ کے ذریعے مسترد کر دیا اور ایوان کی کارروائی اگلے دن صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


