Bharat Express DD Free Dish

Parliament debate

راہل گاندھی نے مرکز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’پارلیمنٹ میں جو خواتین بل پیش کیا گیا، اس کا مقصد دراصل اسے پاس کرانا نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے حلقہ بندی بل کو خاموشی سے منظور کروانا تھا۔ وہ ہندوستان کے انتخابی نظام کو تبدیل کرنا چاہتے تھے۔‘‘

واضح رہے کہ 17 اپریل کو لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش کیا گیا تھا، جس پر تقریباً 21 گھنٹے طویل بحث کے بعد ووٹنگ ہوئی۔ ووٹنگ میں 528 ارکان نے حصہ لیا، جن میں 298 نے بل کے حق میں جبکہ 230 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ تاہم بل کو پاس کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹ درکار تھے، جس کے باعث یہ بل 54 ووٹوں سے مسترد ہو گیا۔

امت شاہ نے واضح کیا کہ بل پیش کیے جانے کے مرحلے پر اس کی خوبیوں یا خامیوں پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا، بلکہ صرف تکنیکی اعتراضات ہی قابل قبول ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان تمام اعتراضات کا تفصیلی اور ’’مضبوط جواب‘‘ بحث کے دوران دے گی۔

آج خصوصی پارلیمانی اجلاس میں وزیر قانون ارجن رام میگھوال آئینی ترمیم اور حدبندی بل پیش کریں گے، جبکہ وزیر داخلہ امت شاہ یونین ٹیریٹریز سے متعلق ترمیمی بل ایوان میں لائیں گے۔ حکومت نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس 16 سے 18 اپریل تک طلب کیا ہے تاکہ خواتین کے لیے ریزرویشن سے متعلق قانون کو 2029 کے عام انتخابات سے پہلے نافذ کیا جا سکے۔

 وزیراعظم نے آسام کے شہر ڈبروگڑھ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 16، 17 اور 18 اپریل کو پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں خواتین کے ریزرویشن قانون میں ترمیم پر تفصیلی بحث ہوگی۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ 2029 کے عام انتخابات میں کم از کم 33 فیصد خواتین پارلیمنٹ کی رکن بنیں۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کئی بار اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ حکومت 31 مارچ 2026 تک ملک کو نکسل ازم سے پاک کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے سکیورٹی آپریشنز کے ساتھ ساتھ بازآبادکاری کی پالیسی پر بھی زور دیا ہے۔

امت شاہ نے اپوزیشن کی جانب سے اسپیکر اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا اقدام پارلیمانی ادارے کے وقار کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً چار دہائیوں کے بعد پہلی بار لوک سبھا کے اسپیکر کے خلاف ایسی قرارداد پیش کی گئی ہے، جو پارلیمانی سیاست کے لیے افسوسناک ہے۔

وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی طویل عرصے تک اپوزیشن میں رہی، لیکن اس نے کبھی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش نہیں کی۔ امت شاہ نے لوک سبھا میں اپوزیشن کی قرارداد پر دو روزہ بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر ایک غیر جانبدار نگہبان ہوتا ہے جو حکومت اور اپوزیشن دونوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

سونیا گاندھی نے وزیر اعظم سے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ خاموشی توڑیں اور ہندوستان کی تاریخی وراثت کے مطابق انصاف اور انسانیت کی آواز بنیں۔ انہوں نے کہا کہ جب عالمی برادری سکتے میں ہے تو گلوبل ساؤتھ کو ہندوستان کی قیادت کی اشد ضرورت ہے۔

فوج کو پوری آزادی دینی ہوتی ہے۔ سیاسی عزائم کی ضرورت ہوتی ہے۔ فوج کے استعمال کے لیے سیاسی عزائم ضروری ہیں۔ 1971 میں تب کی وزیراعظم نے امریکہ کی پروا نہیں کی۔ ایک لاکھ پاکستانی فوجیوں نے سرینڈر کیا۔