Bharat Express DD Free Dish

Women’s Reservation Act: خواتین کے ریزرویشن بل پر سیاست نہ کی جائے، وزیراعظم نریندر مودی نے کانگریس سے کی مکمل تعاون کی اپیل

 وزیراعظم نے آسام کے شہر ڈبروگڑھ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 16، 17 اور 18 اپریل کو پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں خواتین کے ریزرویشن قانون میں ترمیم پر تفصیلی بحث ہوگی۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ 2029 کے عام انتخابات میں کم از کم 33 فیصد خواتین پارلیمنٹ کی رکن بنیں۔

ڈبروگڑھ، آسام: نریندر مودی نے خواتین کے ریزرویشن بل میں مجوزہ ترمیم پر کانگریس سے سیاست نہ کرنے اور مکمل تعاون دینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کی شقیں 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے نافذ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے آسام کے شہر ڈبروگڑھ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 16، 17 اور 18 اپریل کو پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں خواتین کے ریزرویشن قانون میں ترمیم پر تفصیلی بحث ہوگی۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ 2029 کے عام انتخابات میں کم از کم 33 فیصد خواتین پارلیمنٹ کی رکن بنیں۔

’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ کا حوالہ

مودی نے کہا کہ این ڈی اے حکومت کے دور میں منظور ہونے والا ’’ناری شکتی وندن ایکٹ‘‘ خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت ایک بڑا قدم ہے۔ اس قانون کے تحت پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں مخصوص کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے انڈین نیشنل کانگریس پر الزام لگایا کہ اس نے برسوں تک خواتین کے ریزرویشن کے معاملے کو لٹکائے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر اس بل کو متفقہ طور پر منظور کریں۔

کانگریس کا کیا ہے موقف؟

دوسری جانب کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے حکومت کے اس اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کا یہ اجلاس ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حکومت پہلے اس قانون کو 2034 کے انتخابات سے نافذ کرنے کی بات کر رہی تھی، جبکہ کانگریس اس کے جلد نفاذ کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔

خواتین کو بااختیار بنانے پر اتفاق

پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے بھی تمام جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ خواتین کے بااختیار بنانے کے اس اہم معاملے پر متحد ہو جائیں اور سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھیں۔ وزیراعظم مودی نے واضح کیا کہ خواتین کی نمائندگی بڑھانا حکومت کی ترجیح ہے اور اس کے لیے وسیع سیاسی اتفاق رائے ضروری ہے، تاکہ 2029 کے انتخابات میں خواتین کو مناسب حصہ مل سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read