Bharat Express DD Free Dish

Women Empowerment

وزیر اعظم نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی اہم ’پی ایم سواندھی یوجنا‘ آج ملک کی 35 لاکھ سے زیادہ غریب خواتین کے لیے خود کفالت اور معاشی خود انحصاری کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے اس اہم پہلو پر جتنی بات ہونی چاہیے، اتنی نہیں ہو پاتی، حالانکہ یہ اسکیم براہ راست ملک کی دیہی اور شہری معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

چھتیس گڑھ کے دھمتری ضلع کی خواتین نے خود روزگار اور اضافی آمدنی کا ایک منفرد طریقہ تلاش کرلیا ہے۔ یہاں خواتین ازولا کی کاشت کرکے نہ صرف اپنی آمدنی میں اضافہ کر رہی ہیں بلکہ مویشی پالنے والے کسانوں کے لیے بھی ایک مفید متبادل فراہم کررہی ہیں۔

بھارت کی زرعی افرادی قوت میں خواتین کا حصہ 64 فیصد ہے، زرعی افرادی قوت میں نمایاں حصہ رکھنے کے باوجود بہت سی خواتین کو زمین، مالی وسائل اور دیگر ضروری سہولیات تک مردوں کے برابر رسائی حاصل نہیں ہے۔ اس کا براہِ راست اثر ان کی پیداواری صلاحیت اور آمدنی پر پڑتا ہے۔

بھارت میں تقریباً 15 فیصد پائلٹ خواتین، عالمی اوسط صرف 5 فیصد کے آس پاس۔ حکومت کا مقصد صرف خاتون پائلٹوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ پورے ایوی ایشن ورک فورس میں خواتین کی نمائندگی بڑھانا ہے۔

کانگریس کے موقف کو دہراتے ہوئے پی چدمبرم نے خواتین کے ریزرویشن اور حلقہ بندی کو جوڑنے پر بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت پر ’’پوشیدہ ایجنڈے‘‘ کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’مسٹر کرن رجیجو غلط ہیں۔ لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن کی گنجائش آئین کے 106ویں ترمیمی قانون، 2023 کے تحت پہلے ہی موجود ہے، جیسا کہ مسٹر راہل گاندھی نے نشاندہی کی ہے۔ بی جے پی حکومت نے اسے غیر ضروری اور بدنیتی کے ساتھ مردم شماری اور حلقہ بندی سے جوڑ دیا۔‘‘

وشومانگلیہ سبھا کے مطابق دو روزہ یہ بیداری نشست بدلتے ہوئے سماجی منظرنامے میں مادریت، خاندان، اقدار اور قوم کی تعمیر جیسے موضوعات پر تبادلۂ خیال اور تنظیم کی سالانہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔

نکہت زرین کی کہانی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ اگر ارادے مضبوط ہوں تو سماجی رکاوٹیں، مالی مشکلات اور جسمانی چوٹیں بھی کامیابی کا راستہ نہیں روک سکتیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ خوابوں کی تعبیر صرف انہی لوگوں کو ملتی ہے جو مشکلات کے سامنے ہار نہیں مانتے۔

وزیراعظم نے خواتین کی قیادت میں ترقی کو این ڈی اے حکومت کی ترجیح قرار دیا۔ اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں آج اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور مہارتوں کے ذریعے بھارت کا وقار بلند کر رہی ہیں اور ہر شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔

مودی حکومت کے 12 برسوں کے دوران خواتین کو سماجی اور معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے شروع کی گئی متعدد اسکیمیں گیم چینجر ثابت ہوئی ہیں۔

اڈانی فاؤنڈیشن نے مدھیہ پردیش کے ضلع شیو پوری کے گاؤں بدر باس کے قریب ایک نیا اڈانی وکاس مرکز شروع کر دیا ہے۔ یہ مرکز ڈاکٹر پریتی اڈانی کے ’سوا بھیمان وژن‘ کا حصہ ہے، جس کا مقصد خواتین کو گھر کے قریب روزگار اور مستحکم آمدنی فراہم کرنا ہے۔