Bharat Express DD Free Dish

Opposition Motion: تین اہم بلوں کی مخالفت میں اپوزیشن متحد، لوک سبھا میں ڈیلمٹیشن بل پر تنازع، کنی موزھی نے مخالفت میں تحریک پیش کی

آج خصوصی پارلیمانی اجلاس میں وزیر قانون ارجن رام میگھوال آئینی ترمیم اور حدبندی بل پیش کریں گے، جبکہ وزیر داخلہ امت شاہ یونین ٹیریٹریز سے متعلق ترمیمی بل ایوان میں لائیں گے۔ حکومت نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس 16 سے 18 اپریل تک طلب کیا ہے تاکہ خواتین کے لیے ریزرویشن سے متعلق قانون کو 2029 کے عام انتخابات سے پہلے نافذ کیا جا سکے۔

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران حدبندی (ڈیلمٹیشن) کے مسئلے پر سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، جہاں کنی موزھی کروناندھی نے لوک سبھا میں حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے تین اہم بلوں کی مخالفت کرتے ہوئے باقاعدہ تحریک پیش کردی۔ ڈی ایم کے پارلیمانی پارٹی کی لیڈر کنی موزھی نے آئین (131ویں ترمیمی) بل 2026، یونین ٹیریٹریز لاز (ترمیمی) بل 2026 اور حدبندی بل 2026 کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قوانین ملک کے وفاقی ڈھانچے اور نمائندگی کے توازن پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ یہ تینوں بل پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، جن میں خواتین کے لیے نشستوں کے تحفظ اور حلقہ بندیوں کی نئی حدبندی جیسے اہم معاملات شامل ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان بلوں کے ذریعے نہ صرف نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے بلکہ آبادی کی بنیاد پر سیاسی طاقت کا توازن بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

تمل ناڈو میں احتجاج، اسٹالن کا سخت ردعمل

اسی معاملے پر تمل ناڈو میں بھی شدید ردعمل دیکھنے کو ملا، جہاں وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن نے حدبندی بل کی کاپی نذرِ آتش کرتے ہوئے ریاست بھر میں احتجاجی تحریک کا آغاز کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ قانون تمل عوام کو ان کے اپنے ہی خطے میں کمزور بنانے کی کوشش ہے اور اس کے خلاف مزاحمت پورے ریاست میں پھیلائی جائے گی۔ اسٹالن نے بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’’آمرانہ رویہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔

کانگریس کی تشویش، وفاقی ڈھانچے پر خطرہ

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے بھی حدبندی بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کے اثرات ملک کی جمہوری اور وفاقی ساخت کے لیے ’’نقصان دہ اور تباہ کن‘‘ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ صرف تناسب کا نہیں بلکہ نشستوں کی مجموعی تعداد کا ہے، اور اگر 1971 کی مردم شماری کی بنیاد پر عائد پابندی ختم کی گئی تو ملک کے مختلف خطوں کے درمیان نمائندگی کا توازن بگڑ سکتا ہے۔

حکومت کا موقف اور پارلیمانی حکمت عملی

دوسری جانب حکومت ان بلوں کی منظوری کے لیے اپوزیشن کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وزیر قانون ارجن رام میگھوال آئینی ترمیم اور حدبندی بل پیش کریں گے، جبکہ وزیر داخلہ امت شاہ یونین ٹیریٹریز سے متعلق ترمیمی بل ایوان میں لائیں گے۔ حکومت نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس 16 سے 18 اپریل تک طلب کیا ہے تاکہ خواتین کے لیے ریزرویشن سے متعلق قانون کو 2029 کے عام انتخابات سے پہلے نافذ کیا جا سکے۔ اگرچہ اپوزیشن جماعتیں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کی حمایت کر رہی ہیں، تاہم وہ حدبندی بل کو موجودہ شکل میں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، جس کے باعث پارلیمنٹ میں آئندہ دنوں میں مزید گرما گرم بحث اور سیاسی ٹکراؤ کا امکان ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read