Bharat Express DD Free Dish

Parliament Budget Session 2026: پارلیمنٹ بجٹ سیشن کا آغاز ہنگامہ آرائی سے، مغربی ایشیاکی جنگ اور اپوزیشن کا ہنگامہ، مخالفت پر بھڑکے کرن ریجیجو، جے پی نڈا نے لگایا بڑا الزام

پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلے کا آغاز پیر 9 مارچ کو شدید ہنگامہ آرائی کے درمیان ہوا جب اپوزیشن جماعتوں نے مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ اور جنگی صورتحال کو لے کر حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ اجلاس کے پہلے ہی دن حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا جس کے باعث دونوں ایوانوں کی کارروائی متاثر ہوئی۔

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلے کا آغاز پیر 9 مارچ کو شدید ہنگامہ آرائی کے درمیان ہوا جب اپوزیشن جماعتوں نے مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ اور جنگی صورتحال کو لے کر حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ اجلاس کے پہلے ہی دن حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا جس کے باعث دونوں ایوانوں کی کارروائی متاثر ہوئی۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے پارلیمنٹ کے احاطے میں واقع مکر دروازہ پر جمع ہو کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر راہل گاندھی اور ملیکارجن کھڑگے سمیت کئی اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے بڑے بینرز اٹھا رکھے تھے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ اپوزیشن لیڈروں کا الزام تھا کہ مغربی ایشیا میں سنگین حالات کے باوجود حکومت اس معاملے پر خاموش ہے اور پارلیمنٹ کو صورتحال سے آگاہ نہیں کر رہی۔

کانگریس نے اس معاملے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ خلیجی ممالک جنگی حالات سے گزر رہے ہیں، کئی بھارتی شہری وہاں موجود ہیں اور اس کے باوجود مرکزی حکومت واضح مؤقف پیش نہیں کر رہی۔ پارٹی نے کہا کہ ملک کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو عالمی بحران کے وقت بھارتی مفادات کا مؤثر دفاع کر سکے۔ اسی دوران اکھلیش یادو نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جنگ جیسے حالات میں پارلیمنٹ کی اولین ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ وہ ملک کے مؤقف اور خارجہ پالیسی پر واضح بحث کرے تاکہ بھارتی شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

دوسری جانب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بھی اپوزیشن کی جانب سے مسلسل ہنگامہ آرائی جاری رہی۔ جب وزیر خارجہ ایس جے شنکر مغربی ایشیا کی صورتحال پر حکومت کا مؤقف پیش کر رہے تھے تو اپوزیشن اراکین نے نعرے بازی شروع کر دی اور بعد میں واک آؤٹ بھی کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاملے پر تفصیلی بیان دے اور پارلیمنٹ کو مکمل معلومات فراہم کرے۔ لوک سبھا کی صدارت کرنے والے رکن جگدمبیکا پال نے بار بار اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھیں اور کارروائی کو جاری رہنے دیں، تاہم اپوزیشن ارکان کے احتجاج کے باعث ایوان کا ماحول مسلسل کشیدہ رہا۔ وزیر خارجہ جے شنکر نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت مغربی ایشیا کے متاثرہ ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی تنازعہ کا حل جنگ کے بجائے سفارت کاری اور مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے اور بھارت اسی اصول پر عمل کر رہا ہے۔

اس دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر جے پی نڈا نے اپوزیشن کے رویے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تمام سوالات کے تسلی بخش جواب دیے ہیں اور بھارتی شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو نے بھی اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن خود نہیں جانتی کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس تجویز پر بحث ہو رہی تھی وہ خود اپوزیشن نے پیش کی تھی، اس کے باوجود وہ ایوان میں ہنگامہ آرائی کر رہے ہیں۔ مسلسل شور شرابے کے باعث لوک سبھا کی کارروائی دوپہر تین بجے تک ملتوی کر دی گئی جبکہ راجیہ سبھا میں محدود کارروائی جاری رہی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مغربی ایشیا کی صورتحال آنے والے دنوں میں بھی پارلیمنٹ میں گرما گرم بحث کا موضوع بنی رہ سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read