Bharat Express DD Free Dish

Iran attacked US bases in the Gulf countries: ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر کیا حملہ، قطر کی وزارت خارجہ نے جاری کیا بیان

قطر میں موجود العبید امریکی ایئربیس پر ایران نے کل چھ میزائلیں داغی ہیں، جن کو فضا میں ہی مار گرایا گیا ہے۔

ایران کے جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے خلاف آج جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران نے سب سے پہلے قطر میں واقع امریکی اڈے پر چھ میزائلیں داغی ہیں۔ اس کے بعد بحرین اور عراق کے امریکی اڈوں پر بھی حملے کی اطلاعات ہیں۔ وہیں یو اے ای اور سعودی عرب نے اپنا ایئراسپیس بند کر دیا ہے۔ اس سے پہلے قطر سمیت خلیجی ممالک نے پہلے ہی اپنا ایئراسپیس بند کر دیا تھا۔ وہیں امریکی صدر ٹرمپ وار روم میں پہنچ گئے ہیں۔

قطر، بحرین اور عراق میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے

ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کا کہنا ہے کہ قطر اور عراق میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے والا میزائل آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ خبر کے مطابق ایران نے اسے ’’آپریشن اعلانِ فتح‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق قطر میں موجود العدید امریکی ایئربیس پر ایران نے کل چھ میزائلیں داغی ہیں، جن کو فضا میں ہی مار گرایا گیا ہے۔ تاہم علاقے میں جنگ کے سائرن بجنے لگے ہیں اور خدشہ ہے کہ ایران امریکی اڈوں کو لگاتار نشانہ بنانے کی کوشش کرے گا۔ اس کے علاوہ ایران نے بحرین اور عراق میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل حملے کیے ہیں۔

قطر کی وزارت خارجہ نے جاری کیا بیان

دریں اثنا قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کا کہنا ہے کہ العدید بیس پر آئی آر جی سی کا حملہ ’’قطر کی خودمختاری اور فضائی حدود اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے‘‘۔ انھوں نے فوری بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’قطر بین الاقوامی قانون کے مطابق اس صریح جارحیت کا براہ راست جواب دینے کا اپنا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ قطری فضائی دفاع نے حملے کو ناکام بناتے ہوئے ایرانی میزائلوں کو کامیابی سے ناکام کر دیا۔ خبر کے لکھے جانے تک یہ خبر بھی آ رہی ہے کہ ایران نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہمارا بدلہ پورا ہوا۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read