وقف ترمیمی قانون سے متعلق ایک معاملہ میں منگل (13 مئی) کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے اتراکھنڈ حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر ان سے جواب طلب کیا ہے۔ جسٹس بی آر گوئی اور اے جی مسیح کی بنچ نے اس معاملہ پر سماعت کی۔ عرضی میں 17 اپریل کو ایس جی تشار مہتا کی جانب سے دی گئی یقین دہانی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ سالیسٹر جنرل کی یقین دہانی کے باوجود رجسٹر وقف جائیداد کو منہدم کر دیا گیا۔
انتظامیہ نے بغیر کسی نوٹس کے ہی درگاہ کو منہدم کر دیا
دراصل وقف معاملے میں مرکزی حکومت کی یقین دہانی کی مبینہ خلاف ورزی پر اتراکھنڈ کے محفوظ احمد نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی عرضی داخل کی ہے۔ عرضی گزار کا دعویٰ ہے کہ ریاستی انتظامیہ نے بغیر کسی نوٹس کے ہی درگاہ کو منہدم کر دیا، جبکہ مرکزی حکومت نے عدالت میں وقف ترمیمی قانون کو نافذ نہ کرنے کا یقین دلایا تھا۔ واضح ہو کہ سپریم کورٹ میں توہین عدالت کا یہ معاملہ درگاہ حضرت کمال شاہ کو 25 اپریل کی دیر رات بغیر کسی نوٹس کے منہدم کرنے کے سلسلے میں ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ درگاہ حضرت کمال شاہ کو 1982 میں سنّی سنٹرل بورڈ آف وقف، لکھنؤ، اترپردیش کے ساتھ وقف جائیداد نمبر 55 دہرادون کے طور پر رجسٹریشن کیا گیا تھا۔
کارروائی ایک ادنیٰ شکایت کی بنیاد پر کی گئی
عرضی گزار کا یہ بھی کہنا ہے کہ درگاہ پر کی گئی مبینہ کارروائی وزیر اعلیٰ کے پورٹل پر کی گئی ایک ادنیٰ شکایت کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیا، جس کے مطابق اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کہا ہے کہ ’’ریاستی حکومت اتراکھنڈ میں رجسٹرڈ 5700 وقف جائیدادوں کی جامع تحقیقات کرے گی تاکہ تجاوزات کی پہچان کی جا سکے اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ عرضی گزار نے بلڈوزر معاملہ میں سپریم کورٹ کے نومبر 2024 کے فیصلے کو بھی شامل کیا ہے۔ اس میں کہا گیا تھا کہ مقامی میونسپل قوانین میں دیے گئے وقت کے مطابق یا سروس کی تاریخ سے 15 دنوں کے اندر بغیر پیشگی وجہ بتاؤ نوٹس کے کوئی بھی انہدامی کارروائی نہیں کی جانی چاہیے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




