Bharat Express DD Free Dish

Religious Site

واضح رہے کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں کہا تھا کہ متنازع بھوج شالہ-کمال مولا کمپلیکس بنیادی طور پر راجہ بھوج کی بھوج-پرمار سلطنت کے دور کا دیوی واگ دیوی (سرسوتی) کا مندر ہے۔ عدالت نے ASI کے 2003 کے اس حکم کو بھی جزوی طور پر منسوخ کر دیا، جس کے تحت مسلم برادری کو جمعہ کے روز وہاں نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

واقعے میں کسی بڑے نقصان یا سنگین زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ ابھی تک کسی فریق کی جانب سے باضابطہ پولیس شکایت درج نہیں کرائی گئی۔ راجستھان پولیس، درگاہ کمیٹی اور مقامی انتظامیہ معاملے کی جانچ کر رہی ہے، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ ‘‘درگاہ حضرت کمال شاہ کو 1982 میں سنّی سنٹرل بورڈ آف وقف، لکھنؤ، اترپردیش کے ساتھ وقف جائیداد نمبر 55 دہرادون کے طور پر رجسٹریشن کیا گیا تھا۔’’