جموں وکشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک (تصویر: ٹوئٹر)
Former Governor SatyaPal Malik: سابق گورنرستیہ پال ملک کے پاس سے زیڈ پلس سیکورٹی کو ہٹا لیا گیا ہے، اب ان کی سیکورٹی کے لئے صرف ایک پی ایس او تعینات کیا گیا ہے، اسی کو لے کر ستیہ پال ملک نے مرکزی حکومت پر تنقید کی ہے۔ دراصل، ستیہ پال ملک کئی موضوعات پر حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے آئے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ زیڈ پلس سیکورٹی کور کے بجائے اب ان کی سیکورٹی کے لئے ایک نجی سیکورٹی آفیسر (پی ایس او) تعینات کیا جائے گا۔
سابق گورنر نے کہا کہ جو شخص جموں وکشمیر، میگھالیہ اور گوا کا گورنر رہا ہو، اس کی سیکورٹی صرف اس لئے چھین لی گئی، کیونکہ اس نے کسانوں کے موضوع اور مرکز کی اگنی ویراسکیم سے متعلق سوال اٹھائے۔
مرکزی حکومت کی ہوگی ذمہ داری
ستیہ پال ملک نے کہا کہ مجھے ایک پی ایس او دیا گیا ہے جو کہ 3 دنوں سے نہیں آرہا ہے۔ ایسے حالات میں اگر مجھے کچھ ہو بھی جاتا ہے تو اس کے لئے مرکزی حکومت ذمہ دار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ‘جب میں گورنر تھا تو میں نے ہی جموں وکشمیر میں اسمبلی تحلیل کی تھی۔ میری ہی مدت کار میں آرٹیکل 370 بھی ہٹایا گیا۔ میں بتاؤں توآج تک جموں وکشمیر سے جتنے بھی گورنر رہے ہیں، ان سبھی کے پاس سیکورٹی ہے، ایسے میں میری سیکورٹی کیوں ہٹائی گئی، یہ سمجھ نہیں آرہا ہے۔’
میں کوئی سیاسی شخص نہیں ہوں
تین ریاستوں کے گورنر رہ چکے ستیہ پال ملک نے کہا کہ ‘میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں کسی سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہو رہا ہوں۔ میں کوئی سیاسی شخص نہیں ہوں، لیکن اگر مجھے کچھ ہوتا ہے تو برائے مہربانی دہلی آجائیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2008 سے 2018 تک جموں وکشمیر کے گورنر کے طور پر کام کرنے والے این این ووہرا کا سیکورٹی کور ابھی بھی برقرار تھا۔’
ستیہ پال ملک نے وزارت داخلہ کو لکھا خط
ستیہ پال ملک نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے سے متعلق وزارت داخلہ کو خط لکھا ہے، لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ہے کہ ان کا سیکورٹی کور کیوں کم کردیا گیا اور اس قدم کے پیچھے کیا وجہ تھی۔ خاص طور پر صدرجمہوریہ اور وزیر اعظم کی فیملی کے لئے تاحیات سیکورٹی کور کے لئے پروٹوکول نافذ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




