نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی سابق ترجمان وجیتا دہیا نے سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے اقتدار کی تبدیلی سے متعلق بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں بات کرنا مکمل طور پر آئینی ہے۔ انہوں نے 2013 میں وزیر اعظم کی ایک پرانی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بھول گئی ہے کہ جمہوریت عوام کی حکمرانی کا نظام ہے۔ انہوں نے سی جے پی کی فنڈنگ، عام آدمی پارٹی کے ساتھ اس کے تعلقات، احتجاج کے دوران لیڈروں کی غیر موجودگی اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) کی صدر نیہا بورا کے ’بنگلہ دیش راستہ دکھا رہا ہے‘ والے بیان پر بھی وضاحت پیش کی۔
اقتدار کی تبدیلی کی بات کرنا آئینی حق ہے
پرشانت بھوشن کے اقتدار کی تبدیلی سے متعلق بیان پر وجیتا دہیا نے کہا، ’’انہوں نے کہا کہ اقتدار کی تبدیلی کی بات کرنا آئینی ہے، اور یقیناً ایسا ہی ہے۔ وزیر اعظم کی 2013 کی ایک پرانی تقریر بھی وائرل ہو رہی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک کے عوام حکومت کو اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں۔ حکومت بھول گئی ہے کہ جمہوریت عوام کی، عوام کے ذریعے حکمرانی کا نظام ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ عام طور پر اگر کوئی حکومت کام نہیں کرتی تو لوگ اس کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، میڈیا ان پر رپورٹنگ کرتا ہے اور ووٹر اگلے انتخابات میں کسی دوسری پارٹی کو منتخب کر لیتے ہیں۔ اسی طرح اقتدار کی تبدیلی ہوتی ہے۔ انہوں نے سوال کیا، ’’ہم اقتدار کی تبدیلی کی بات کیوں نہیں کر سکتے؟‘‘
سی جے پی کی فنڈنگ پر کیا کہا؟
کاکروچ جنتا پارٹی کی فنڈنگ کے بارے میں وجیتا دہیا نے کہا کہ اب وہ سی جے پی کا حصہ نہیں ہیں، اس لیے اس کی فنڈنگ کے بارے میں پارٹی سے ہی پوچھنا بہتر ہوگا۔ انہوں نے کہا، ’’جب میں اس سے وابستہ تھا تو میں نے ایک ایک روپیہ اپنی جیب سے خرچ کیا تھا۔ مثال کے طور پر، جب میں حیدرآباد گیا تھا تو آنے جانے کی پرواز کا خرچ خود اٹھایا تھا اور جنتر منتر تک روزانہ آنے جانے کا خرچ بھی خود ہی برداشت کیا تھا۔ میں نے سی جے پی کے فنڈ سے یا کہیں اور سے ایک روپیہ بھی نہیں لیا۔‘‘
عام آدمی پارٹی اور سی جے پی کے تعلقات پر وضاحت
عام آدمی پارٹی اور کاکروچ جنتا پارٹی کے درمیان تعلقات کے بارے میں سابق ترجمان نے کہا کہ یہ ایک انتہائی موضوعی معاملہ ہے اور اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کس طرح کے اثر و رسوخ کی بات کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہر شخص کے سوچنے کا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، جب میں سی جے پی سے وابستہ تھا تو میں نے ایسا کچھ نہیں دیکھا۔‘‘
احتجاجی لیڈروں کی غیر موجودگی پر کیا کہا؟
جب وجیتا دہیا سے پوچھا گیا کہ ابھیجیت دیپکے، سورو داس اور آشوتوش رانکا پولیس کی کارروائی کے دوران احتجاجی مقامات پر موجود کیوں نہیں رہتے اور اس کے بجائے محفوظ مقامات پر کیوں رہتے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ ایک کہاوت ہے کہ لوگ بدکردار افراد کو بھی لیڈر کے طور پر قبول کر سکتے ہیں، لیکن مظاہرین سے سنت ہونے کی توقع رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’آپ مظاہرین کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں اور ان میں تمام خامیاں تلاش کر رہے ہیں۔‘‘
نیہا بورا کے ’بنگلہ دیش راستہ دکھا رہا ہے‘ والے بیان پر ردعمل
آئسا کی صدر نیہا بورا کے ’بنگلہ دیش راستہ دکھا رہا ہے‘ والے بیان پر وجیتا دہیا نے کہا کہ ان کے بیانات کو بھی بار بار سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’نیہا بہت سمجھدار ہیں اور وہ جو کچھ بھی کہتی ہیں، اس میں ان کی نظریاتی وضاحت بہت مضبوط ہوتی ہے۔‘‘ وجیتا دہیا نے کہا کہ اس سے پہلے سونم وانگچک کے بارے میں بھی اسی طرح کے تبصرے کیے گئے تھے، لیکن بعد میں حقائق کی جانچ سے واضح ہوا کہ انہوں نے حقیقت میں کیا کہا تھا۔ ان کے مطابق، نیہا بورا نے کہا تھا کہ ہمیں بنگلہ دیش سے تحریک نہیں لینی چاہیے، بلکہ دنیا کو راستہ دکھانا چاہیے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



