Bharat Express DD Free Dish

West Bengal

ثانوی اور اعلیٰ ثانوی اسکولوں کے برطرف اساتذہ کے جاری احتجاج کے درمیان مغربی بنگال اسکول سروس کمیشن (ڈبلیو بی ایس ایس سی) نے ’’داغدار‘‘ اور ’’غیر داغدار‘‘ امیدواروں کی ایک فہرست از سرِ نو تصدیق کے لیے ریاستی محکمۂ تعلیم کو بھیجی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما ترون چُگھ نے اتوار کو مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر مرشد آباد تشدد کے حوالے سے طنز کرتے ہوئے ان کا موازنہ پاکستان کے بانی محمد علی جناح سے کیا ہے۔

بی جے پی رکن پارلیمنٹ جیوترامی سنگھ مہتو نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر مرکز سے مغربی بنگال کے منتخب سرحدی اضلاع کو مسلح افواج (خصوصی اختیارات) ایکٹ (AFSPA) کے تحت ’’پریشان علاقے‘‘ قرار دینے کی اپیل کی ہے۔

وزارت داخلہ نے کہا کہ تشدد سے متاثرہ مرشد آباد میں مقامی طور پر دستیاب تقریباً 300 بی ایس ایف اہلکاروں کے علاوہ، مغربی بنگال حکومت کی درخواست پر مزید پانچ کمپنیاں تعینات کی گئیں۔

چودھری نے مظاہرین کو تشدد سے دور رہنے کی ہدایت کی۔ وہ گزشتہ کئی دنوں سے وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کی قیادت کر رہے ہیں۔ چودھری نے کہا کہ اس قانون کے خلاف ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں کے دستخط جمع کرنے کے بعد وزیر اعظم مودی کو خط بھیجا جائے گا۔

 ایک اہلکار نے بتایا کہ رگھوناتھ گنج اور سوتی تھانے کے علاقوں میں امتناعی احکامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔ ضلع کے تمام حساس علاقوں بالخصوص جنگی پور شہر اور اس کے آس پاس بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔

بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ ہمارے ریاست میں لوگوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی سیاست نہیں چلے گی۔ یہاں وقف قانون نافذ نہیں کیا جائے گا۔ بنگال میں سبھی لوگ مل جل کررہتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اگرآپ کواکساتا ہے تو اس کے بہکاوے میں نہیں آئیں۔ یاد رکھیں کہ دیدی آپ کی ہے اور آپ کی جائیداد کا تحفظ کرے گی۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ بھرتی کے دوران کئے گئے کسی بھی جرم کی مذمت کی جانی چاہئے۔ تاہم، منصفانہ طریقوں سے منتخب اساتذہ کے ساتھ داغدار اساتذہ کے برابر سلوک کرنا ایک بہت بڑی ناانصافی ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم کے بعد برطرف اساتذہ کولکاتا کے شاہد مینار گراؤنڈ میں جمع ہوئے اور ان میں سے بہت سے یہ کہتے ہوئے رو پڑے کہ اس فیصلے نے انھیں غیر یقینی صورت حال میں ڈال دیا ہے۔

لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں وقف ترمیمی بل پاس ہونے کے بعد مغربی بنگال میں وقف جائیداد سے متعلق بڑا تنازعہ چھڑگیا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایڈن گارڈن، فورٹ ولیم اورعلی پورچڑیا گھرجیسے اہم مقامات وقف کا حصہ ہیں۔ مرکزی حکومت نے مغربی بنگال میں 80,548 وقف جائیداد کی جانکاری دی ہے، جن میں سے کئی کا استعمال تعلیم اورصحت کے میدان میں ہو رہا ہے۔