مغربی بنگال میں متنازعہ وقف (ترمیمی) قانون کے خلاف مظاہروں کے دوران مغربی بنگال کے جنوبی 24 پرگنہ کے بھنگور میں پولیس اور انڈین سیکولر فرنٹ (آئی ایس ایف) کے حامیوں کے درمیان جھڑپ کی اطلاعات ہیں۔ یہ جھڑپیں، جس میں مبینہ طور پر متعدد زخمی ہوئے اور پولیس کی گاڑیاں تباہ ہوئیں، اس وقت شروع ہوئیں جب پولیس نے آئی ایس ایف کے حامیوں کو وسطی کولکاتا کے رام لیلا میدان کی طرف جانے سے روک دیا، جہاں پارٹی لیڈر اور بھنگور کے ایم ایل اے نوشاد صدیقی کی وقف ترمیمی قانون مخالف احتجاجی ریلی میں شرکت کی جا سکے۔
اس طرح خراب ہوئے حالات
پولیس ذرائع کے مطابق آئی ایس ایف کی ریلیوں کو بسنتی ہائی وے پر بھوجرہاٹ کے قریب روکا گیا، جہاں بھنگور کے ساتھ ساتھ پڑوسی علاقوں جیسے میناخان اور سندیشکھلی سے بھی بڑی تعداد میں آئی ایس ایف کے کارکن جمع ہوگئے تھے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب ہجوم نے پولیس کی رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان تصادم ہوا۔ ایک سینئر پولیس افسر نے کہا ’’مظاہرین نے پولیس کی کچھ گاڑیوں کو آگ لگا دی اور چند پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔‘‘ وہیں عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کا سہارا لیا، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک ISF کارکن کے سر میں چوٹ آئی۔
جس کے بعد صورت حال تیزی سے بگڑتی گئی اور آئی ایس ایف کارکنوں نے ہائی وے پر احتجاجی دھرنا شروع کردیا، جس کے نتیجے میں سڑک پر طویل ٹریفک جام لگ گیا۔ صورت حال کو قابو میں کرنے کے لیے اعلیٰ افسران سمیت بڑی پولیس فورس کو تعینات کیا گیا تھا۔ قریبی علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔ بعد میں مظاہرین منتشر ہو گئے۔ آئی ایس ایف نے بی جے پی پر فرقہ وارانہ کشیدگی کو بھڑکانے کی کوشش کرنے اور حکمراں ترنمول کانگریس پر اپوزیشن کے احتجاج کو دبانے کا الزام بھی لگایا ہے۔
آئی ایس ایف لیڈر نے ممتابنرجی پر لگایا احتجاج نہ کر دینے کا الزام
دریں اثنا کولکاتا میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نوشاد صدیقی نے کہا ’’یہ قانون صرف مسلمانوں پر حملہ نہیں ہے، یہ آئین پر حملہ ہے۔ ہم اس قانون کو قبول نہیں کریں گے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا ’’وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ نیا وقف قانون مغربی بنگال میں نافذ نہیں کیا جائے گا۔ ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ لیکن پھر پولیس ہمارے کارکنوں کو پرامن ریلی میں جانے سے کیوں روک رہی ہے؟ کیا احتجاج کا حق صرف ترنمول کانگریس کو ہے؟‘‘
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کی لوگوں سے اشتعال انگیزی کا شکار نہ ہونے کی اپیل
تازہ جھڑپوں کے بعد وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پیر کو لوگوں سے اشتعال انگیزی کا شکار نہ ہونے کی اپیل کی اور اس بات پر زور دیا کہ ہر ایک کو پرامن طریقے سے مظاہرہ کرنے کا حق ہے، لیکن انھیں قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔ انھوں نے کہا ’’ہر ایک کو اجازت کے ساتھ پرامن احتجاج کرنے کا جمہوری حق ہے۔ میں لوگوں سے درخواست کروں گی کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ قانون کی حفاظت کے لیے، ہمارے پاس محافظ ہیں اور کسی شیطان کی ضرورت نہیں ہے۔ براہ کرم مذہب کے نام پر غیر مذہبی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




