مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع میں وقف (ترمیمی) ایکٹ کے خلاف مظاہرے سے مبینہ طور پر منسلک پرتشدد جھڑپوں میں باپ بیٹے سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے، جس کے بعد مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ہفتہ کو اعلان کیا کہ وقف (ترمیمی) ایکٹ ریاست میں لاگو نہیں کیا جائے گا۔ سوتی اور شمشیر گنج جیسے علاقوں میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے درمیان کولکاتہ ہائی کورٹ نے اپوزیشن لیڈر سویندو ادھیکاری کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں سینٹرل آرمڈ پولیس فورس (سی اے پی ایف) کی تعیناتی کا حکم دیا۔
مغربی بنگال کے تشدد زدہ علاقوں میں نیم فوجی بارڈر سیکورٹی فورس کے اہلکاروں کی تعیناتی بڑھا دی گئی ہے۔ تقریباً 1600 اہلکار جلد ہی تشدد سے متاثرہ علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اس وقت 800 فوجی تشدد سے متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں۔ بی ایس ایف جوانوں کی تعیناتی مرکزی ہوم سکریٹری، ریاستی ڈی جی پی اور چیف سکریٹری کے درمیان میٹنگ کے بعد کی جارہی ہے۔ کل کی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ ریاستی حکومت تشدد کے بارے میں ایک رپورٹ وقفے وقفے سے مرکزی وزارت داخلہ کو پیش کرے گی۔ اس کے علاوہ نیم فوجی دستوں کی تقریباً 10 کمپنیوں کو الرٹ پر رکھا گیا ہے، جنہیں ضرورت پڑنے پر کسی بھی وقت مغربی بنگال میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔ تعینات مرکزی نیم فوجی دستے کے اہلکار امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ریاستی پولیس کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔جسٹس سومن سین کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ جب ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں تو عدالت “اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتی” اور عام لوگوں کو مناسب تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ عدالت نے مرکز اور ریاست کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ 17 اپریل کو ہونے والی اگلی سماعت سے پہلے صورت حال پر تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔
مرشد آباد کے سوتی اور شمشیر گنج بلاکس میں احتجاج کے پرتشدد ہونے کے بعد باپ بیٹے کی جوڑی سمیت کم از کم تین افراد ہلاک اور 150 سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ مظاہرین کو منانے کے لیے وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ متعلقہ قانون مرکزی حکومت نے بنایا ہے، ان کی حکومت نے نہیں۔ وزیر اعلیٰ نےایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، “یاد رکھیں، ہم نے وہ قانون نہیں بنایا جس پر بہت سے لوگ ناراض ہیں۔ یہ قانون مرکزی حکومت نے بنایا ہے۔ اس لیے آپ جو بھی جواب چاہتے ہیں، آپ اسے مرکزی حکومت سے پوچھ لیں۔ انہوں نے سوال کیاکہ ہم نے اس معاملے میں اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے ۔ ہم اس قانون کی حمایت نہیں کرتے ہیں، اگر یہ قانون ہماری ریاست میں نافذ نہیں ہوگا تو پھر فساد کیوں؟
مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن نے مرشد آباد تشدد پر مغربی بنگال کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کی۔ مرکزی داخلہ سکریٹری نے مغربی بنگال کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی سے کہا کہ وہ جلد از جلد معمول کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کریں۔وزارت داخلہ نے کہا کہ تشدد سے متاثرہ مرشد آباد میں مقامی طور پر دستیاب تقریباً 300 بی ایس ایف اہلکاروں کے علاوہ، مغربی بنگال حکومت کی درخواست پر مزید پانچ کمپنیاں تعینات کی گئیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق، مرکزی داخلہ سکریٹری نے کہا کہ مرکز صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اور مغربی بنگال کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اہلکار نے بتایا کہ تشدد سے متاثرہ شمشیر گنج علاقے میں جعفرآباد میں ایک گھر سے باپ اور بیٹے کی لاشیں برآمد ہوئیں جن کے جسموں پر چاقو کے زخم تھے۔ مقتول کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ مجرموں نے ان کے گھر میں لوٹ مار کی اور دونوں پر چاقو سے حملہ کیا۔ ایک اور واقعہ میں، ایک 21 سالہ نوجوان جمعہ کو سوتی کے سجور موڑ میں جھڑپ کے دوران گولی لگنے سے زخمی ہوا اور ہفتہ کی شام مرشد آباد میڈیکل کالج اینڈاسپتال میں اس کی موت ہوگئی۔ ہفتہ کو کچھ علاقوں میں تشدد بھی ہوا۔ دھولیاں میں بیڑی فیکٹری کے دو مزدوروں کو کام پر جاتے ہوئے گولی مار کر قتل کر دیا گیا جن میں کمسن لڑکے بھی شامل تھے۔ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (امن و امان) جاوید شمیم نے کولکاتہ میں صحافیوں کو بتایا کہ تشدد کے سلسلے میں اب تک 150 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


