بی جے پی رکن پارلیمنٹ جیوترامی سنگھ مہتو نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر مرکز سے مغربی بنگال کے منتخب سرحدی اضلاع کو مسلح افواج (خصوصی اختیارات) ایکٹ (AFSPA) کے تحت ’’پریشان علاقے‘‘ قرار دینے کی اپیل کی ہے۔ خط میں ان علاقوں میں ہندوؤں پر بار بار حملوں کا الزام لگایا گیا ہے۔ 13 اپریل کو لکھے گئے اپنے خط میں مہتو نے الزام لگایا کہ مرشد آباد، مالدہ، نادیہ اور جنوبی 24 پرگنہ جیسے اضلاع میں ہندوؤں کے خلاف بارہا تشدد دیکھنے میں آیا ہے اور ریاستی انتظامیہ نے اس معاملے پر ’’آنکھیں بند‘‘ کر رکھی ہیں۔
مہتو نے ٹی ایم سی کو خوشامد کی سیاست میں مشغول قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ حال ہی میں مرشد آباد ضلع میں 86 سے زیادہ ہندو گھروں اور دکانوں کو لوٹ لیا گیا یا تباہ کر دیا گیا اور ہرگوبندو داس نامی شخص کو اس کے بیٹے سمیت قتل کر دیا گیا۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ جھابونا گاؤں میں پان کی پتیوں کے باغات کو شدت پسند عناصر نے معاشی نقصان پہنچانے کے تخریبی مقصد کے ساتھ نشانہ بنایا اور جلا ڈالا۔ بی جے پی ایم پی نے کہا ’’یہ الگ تھلگ واقعات نہیں ہیں۔ سرحدی اضلاع میں اسی طرح کی بدامنی پھیلتی رہتی ہے، جس کی وجہ سے ان علاقوں کی ’ہندو آبادی کمزور اور بے آواز‘ ہو گئی ہے۔‘‘
وقف (ترمیمی) ایکٹ کے خلاف مظاہرے کے دوران پھوٹنے والے تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے مہتو نے الزام لگایا کہ ہجوم نے ہندوؤں کے گھروں، عوامی املاک اور یہاں تک کہ پولیس فورس پر حملہ کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسے روکنے کے لیے کلکتہ ہائی کورٹ کو مداخلت کرنا پڑی اور مرکزی مسلح پولیس فورس کی تعیناتی کا حکم دینا پڑا۔ یہ ’’ریاستی حکومت کی انتظامی ناکامی‘‘ کی واضح مثال ہے۔ کشمیری پنڈتوں سے موازنہ کرتے ہوئے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو بنگال میں بھی ایسی ہی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔
کشمیری پنڈتوں جیسی صورت حال کا سامنا کر سکتے ہیں یہاں کے ہندو: مہتو
مہتو نے خط میں لکھا ہے ’’میں انتہائی احترام کے ساتھ آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ مغربی بنگال کے سرحدی اضلاع میں AFSPA کے نفاذ پر غور کریں۔ س طرح کے اقدام سے امن و امان کی بحالی، مستقبل میں تشدد کو روکنے اور ہندوؤں کو یہ یقین دلانے میں مدد ملے گی کہ انھیں ترک وطن نہیں کرنا پڑے گا۔‘‘ مہتو نے خط کا اختتام ’’انصاف، سلامتی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے فیصلہ کن کارروائی‘‘ کی درخواست کے ساتھ کیا۔
دریں اثناء رانا گھاٹ کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ جگن ناتھ سرکار نے بھی شاہ کو خط لکھا اور مرکزی وزیر داخلہ سے مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کی روشنی میں فوری مداخلت کرنے کی اپیل کی۔ انھوں نے وزارت داخلہ سے ایک اعلیٰ سطحی تفتیشی اور مانیٹرنگ ٹیم اور حساس علاقوں میں مرکزی فورسز کی تعیناتی کی درخواست کی اور امن کی بحالی اور آئینی حقوق کو برقرار رکھنے کے لیے مجرموں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



