Bharat Express DD Free Dish

West Bengal

وزیر اعظم نریندرمودی نے مغربی بنگال میں ٹی ایم سی حکومت پر"سنڈیکیٹ راج" اور"کٹ منی" کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ بنگال کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بنگال میں بھی تبدیلی اورترقی کا وعدہ کیا۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوران مرشد آباد کے کنڈی میں کانگریس امیدوار ادھیر رنجن چودھری کے قافلے پر تیز رفتار ٹرک نے حملہ کیا۔ چودھری جیبنتی اور ہاٹپارہ کے درمیان اسٹیٹ ہائی وے 11 پرہونے والے حادثے میں بال بال بچ گئے۔

بھوانی پور حلقہ سیاسی طور پر نہایت اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ یہاں ان کا مقابلہ بی جے پی کے سینئر رہنما سویندو ادھیکاری سے متوقع ہے۔ سویندو ادھیکاری نے 2021 کے اسمبلی انتخابات میں نندی گرام سیٹ پر ممتا بنرجی کو شکست دی تھی، جس کے بعد انہوں نے بھوانی پور سے ضمنی انتخاب لڑ کر اسمبلی میں واپسی کی تھی۔

سینئر ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن نے ایس آئی آر کے پورے عمل کی قانونی اورآئینی حیثیت پرسوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے لیے مقررہ اصول وضوابط اور شفافیت کے تقاضوں پرمکمل عمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

وزیر اعظم نے نوجوانوں کے رجحان کے بارے میں دریافت کیا، جس پر کارکنان نے کہا کہ نوجوان طبقہ بھی پارٹی کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس پر وزیر اعظم مودی نے مسکراتے ہوئے کہا، "چلیے، جیت پکی کیجئے"، جس پر وہاں موجود کارکنان نے پرجوش نعروں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ اس غیر رسمی گفتگو نے انتخابی ماحول کو مزید گرم کر دیا اور کارکنان میں نیا جوش پیدا ہوا۔

بی جے پی نے اپنے 40 اسٹار کیمپینر کی لسٹ جاری کر دی ہے، جس میں وزیر اعظم مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سمیت کئی بڑے لیڈر شامل ہیں۔ پارٹی نے انتخابات سے قبل اپنی پوری طاقت جھونکنے کا فیصلہ کیا ہے اور ریاست میں بھرپور انتخابی مہم چلانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کوچ بہار کی ریلی عوام کے بدلتے ہوئے مزاج کی واضح علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ٹی ایم سی کے دور حکومت میں سنڈیکیٹ راج اور بدعنوانی کا خوف ہے، جبکہ دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ترقی اور شفاف حکمرانی کا وعدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں لوگوں کو اپنی جائیداد اور کاروبار کے تحفظ کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں، جس کی وجہ سے عوام میں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔

حکام کے مطابق ریاستی حکومت نے اسمبلی انتخابات کے اعلان سے قبل تقریباً ایک ہزار افراد کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے 2,185 پولیس اہلکار تعینات کیے تھے۔ ان میں 832 افراد براہ راست ترنمول کانگریس سے وابستہ تھے جبکہ 144 افراد کو پارٹی کے حامیوں کے طور پر سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔ اس پیش رفت پر الیکشن کمیشن نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے قبل اس نوعیت کی تعیناتی انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

مغربی بنگال میں 294 رکنی اسمبلی کے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں حکمراں ترنمول کانگریس، بی جے پی، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

امت شاہ نے اپنی تقریر میں ممتا بنرجی اور ان کی جماعت ترنمول کانگریس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں بدعنوانی، بے روزگاری، خواتین کی سلامتی کے مسائل اور غیر قانونی دراندازی جیسے مسائل بڑھ گئے ہیں۔