Bharat Express DD Free Dish

West Bengal

امت شاہ نے انتخابی عمل کے دوران کسی بھی قسم کی بدامنی یا دھاندلی پر سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ 23 اور 29 اپریل کو ہونے والی ووٹنگ کے دوران اگر کسی نے خلل ڈالنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہے ایسے عناصر ووٹنگ کے دن گھروں میں ہی رہیں، ورنہ قانون اپنا کام ضرور کرے گا۔

واضح رہے کہ مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو منعقد ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے اور دونوں پارٹیاں بھرپور انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔

چندر بوس اس سے قبل بی جے پی کے ٹکٹ پر 2016 میں بھوانی پور اسمبلی سیٹ سے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے خلاف الیکشن لڑ چکے ہیں، تاہم انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب انہوں نے اسی انتخابی میدان کے درمیان پارٹی تبدیل کر کے ٹی ایم سی کا دامن تھام لیا ہے، جس سے سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی نے پہلے مرحلے کی ووٹنگ سے قبل وسیع پیمانے پر انتخابی مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق وہ پہلے مرحلے کے لیے 500 سے زیادہ ریلیاں اور عوامی جلسے منعقد کرے گی، جن میں مرکزی اور ریاستی سطح کے سرکردہ لیڈر حصہ لیں گے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی 11 بڑی انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے۔

وزیر اعظم مودی نے مغربی بنگال کے شہر سلی گڑی میں ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کر کہا کہ اگر کوئی مغربی بنگال کا اصل مزاج دیکھنا چاہتا ہے تو اسے سلی گڑی ضرور آنا چاہیے، کیونکہ یہاں کے عوام کے دل و دماغ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے زبردست حمایت نظر آ رہی ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق ان ریلیوں میں مرکزی حکومت اور مختلف ریاستوں کے اہم رہنما شرکت کریں گے تاکہ ووٹروں کو اپنی جانب راغب کیا جا سکے۔ بی جے پی کی اس حکمت عملی کو ریاست میں اپنی موجودگی مضبوط کرنے اور اقتدار تک رسائی کے ایک بڑے منصوبے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اپنے بیان میں روپالی گنگولی نے کہا کہ وہ روزانہ درگا ماتا سے پرارتھنا کرتی ہیں کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت قائم ہو اور ریاست میں مثبت تبدیلی آئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ترنمول کانگریس کے دورِ حکومت میں عام لوگوں، خاص طور پر ہندو خاندانوں کو مشکلات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد تمام سرکاری ملازمین کو مہنگائی بھتہ فراہم کیا جائے گا اور 45 دن کے اندر ساتواں پے کمیشن نافذ کر دیا جائے گا تاکہ ملازمین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں لکھا کہ دوپہر کا وقت ہے، دھوپ تیز ہے، لیکن اس کے باوجود مغربی بنگال کے عوام کا جوش دیدنی ہے۔ انہوں نے کمل کے انتخابی نشان کا ذکر کرتے ہوئے ریاست بھر میں عوامی حمایت کا بھی اشارہ دیا اور کہا کہ یہ جذبہ تبدیلی کی علامت ہے۔

اپنے خطاب میں امت شاہ نے کہا کہ بنگال میں غیر قانونی طور پر رہنے والے افراد کے خلاف کارروائی ضروری ہے اور اگر بی جے پی کو اقتدار ملا تو ایسے تمام عناصر کی شناخت کر کے انہیں ریاست سے باہر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ”بی جے پی کو موقع دیں، ہم سنڈیکیٹ چلانے والوں کو الٹا لٹکا دیں گے اور قانون کی بالادستی قائم کریں گے“۔