West Bengal Assembly Elections 2026: بنگال انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے بی جے پی کی انتخابی مہم تیز، 500 سے زیادہ ریلیوں کا اعلان، وزیر اعظم مودی کریں گے خطاب
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی نے پہلے مرحلے کی ووٹنگ سے قبل وسیع پیمانے پر انتخابی مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق وہ پہلے مرحلے کے لیے 500 سے زیادہ ریلیاں اور عوامی جلسے منعقد کرے گی، جن میں مرکزی اور ریاستی سطح کے سرکردہ لیڈر حصہ لیں گے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی 11 بڑی انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے۔
PM Modi Siliguri Rally: وزیر اعظم مودی نے شیئر کیا ویڈیو، کہا- ”بنگال کا مزاج دیکھنے سلی گوڑی آئیں، لوگوں کے دل-دماغ میں ہے بی جے پی“
وزیر اعظم مودی نے مغربی بنگال کے شہر سلی گڑی میں ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کر کہا کہ اگر کوئی مغربی بنگال کا اصل مزاج دیکھنا چاہتا ہے تو اسے سلی گڑی ضرور آنا چاہیے، کیونکہ یہاں کے عوام کے دل و دماغ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے زبردست حمایت نظر آ رہی ہے۔
Bengal Elections: مغربی بنگال میں بی جے پی کا 500 سے زائد انتخابی ریلیوں کا پلان، وزیراعظم مودی 11 جلسوں سے کریں گے خطاب
پارٹی ذرائع کے مطابق ان ریلیوں میں مرکزی حکومت اور مختلف ریاستوں کے اہم رہنما شرکت کریں گے تاکہ ووٹروں کو اپنی جانب راغب کیا جا سکے۔ بی جے پی کی اس حکمت عملی کو ریاست میں اپنی موجودگی مضبوط کرنے اور اقتدار تک رسائی کے ایک بڑے منصوبے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
Rupali Ganguly Attacks Mamata Banerjee: روپالی گنگولی کا ممتا بنرجی پر سخت حملہ، کہا- مجھے شرم آتی ہے کہ وہ بنگال کی وزیر اعلیٰ ہیں
اپنے بیان میں روپالی گنگولی نے کہا کہ وہ روزانہ درگا ماتا سے پرارتھنا کرتی ہیں کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت قائم ہو اور ریاست میں مثبت تبدیلی آئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ترنمول کانگریس کے دورِ حکومت میں عام لوگوں، خاص طور پر ہندو خاندانوں کو مشکلات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
West Bengal Assembly Elections 2026: مغربی بنگال میں انتخابی مہم تیز، وزیر داخلہ امت شاہ آج کئی بڑی ریلیوں سے کریں گے خطاب
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد تمام سرکاری ملازمین کو مہنگائی بھتہ فراہم کیا جائے گا اور 45 دن کے اندر ساتواں پے کمیشن نافذ کر دیا جائے گا تاکہ ملازمین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
West Bengal Assembly Elections: بنگال انتخابات: ہیلی پیڈ پر عوام کا جم غفیر، وزیر اعظم مودی نے کہا—یہ منظر بے حد حیرت انگیز
وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں لکھا کہ دوپہر کا وقت ہے، دھوپ تیز ہے، لیکن اس کے باوجود مغربی بنگال کے عوام کا جوش دیدنی ہے۔ انہوں نے کمل کے انتخابی نشان کا ذکر کرتے ہوئے ریاست بھر میں عوامی حمایت کا بھی اشارہ دیا اور کہا کہ یہ جذبہ تبدیلی کی علامت ہے۔
Amit Shah Attacks CM Mamata Banerjee: بانکوڑا میں امت شاہ کی للکار، کہا- ”بی جے پی آئی تو سنڈیکیٹ چلانے والوں کو الٹا لٹکا دیں گے اور قانون کی بالادستی قائم کریں گے“
اپنے خطاب میں امت شاہ نے کہا کہ بنگال میں غیر قانونی طور پر رہنے والے افراد کے خلاف کارروائی ضروری ہے اور اگر بی جے پی کو اقتدار ملا تو ایسے تمام عناصر کی شناخت کر کے انہیں ریاست سے باہر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ”بی جے پی کو موقع دیں، ہم سنڈیکیٹ چلانے والوں کو الٹا لٹکا دیں گے اور قانون کی بالادستی قائم کریں گے“۔
BJP Bengal Manifesto 2026: بی جے پی کا ’انتخابی منشور‘ جاری: خواتین و نوجوانوں کو ماہانہ 3000 روپے، یو سی سی کے نفاذ اور ’خوف کے راج‘ کے خاتمے کا وعدہ
مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے منشور جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک دستاویز نہیں بلکہ ”سونار بنگلہ“ کے قیام کا ایک جامع روڈمیپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا مقصد ریاست کو بدعنوانی، بے روزگاری اور مبینہ بدامنی سے نکال کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔
Amit Shah Rejects Alliance Humayun Kabir: وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا- ”بابری مسجد بنانے والوں سے اتحاد سے بہتر 20 سال اپوزیشن میں بیٹھنا قبول“
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اس موقع پر ترنمول کانگریس کی سربراہ اور وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اشارہ دیا کہ ہمایوں کبیر کی وائرل آڈیو کلپ کے پیچھے حکمراں جماعت کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ممتا بنرجی اس طرح کی ہزاروں ویڈیوز تیار کروا سکتی ہیں، اس لیے اس معاملے کو حقیقت کے بجائے سیاسی چال کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
HM Amit Shah Attacks CM Mamata Banerjee: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا ممتا بنرجی پر شدید حملہ، دراندازی اور بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان
اپنے خطاب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ممتا بنرجی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ”ماں، ماٹی اور مانوش“ کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آنے والی حکومت عوامی توقعات پر پوری نہیں اتر سکی۔ ان کے مطابق ریاست کے نوجوان آج بھی بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ خواتین کی سلامتی اور کسانوں کی حالت پر بھی سوالیہ نشان قائم ہے۔





