Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Bill 2024

وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں اعلان کیا ہے کہ حکومت موجودہ بجٹ اجلاس کے دوران وقف ترمیمی بل پیش کرے گی۔ اس بل کے تحت زمین کے تنازعات کو حل کرنے کا حق صرف عدالتوں کو دیا جائے گا، اس طرح شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جائے گا۔

مذہبی رہنما افراہیم حسین نے وزیر اعظم کو خط بھیج کر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وقف املاک کی حیثیت کی تفصیلی تحقیقات کرائی جائے اور ان پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

وقف (ترمیمی) بل کے خلاف مسلسل احتجاج جاری ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اسے مسلمانوں پربراہ راست حملہ قراردیا ہے اورالزام لگایا ہے کہ اس سے ان کی جائیدادیں چھین لی جائیں گی۔ اویسی نے دیگرجماعتوں کو خبردارکیا ہے کہ اگروہ بل کی حمایت کرتے ہیں تو مسلمان انہیں معاف نہیں کریں گے۔

وجئے کی قیادت والی تملگا ویتری کژگم نے وقف بل کی مخالفت کرتے ہوئے جمعہ کو مرکزی حکومت سے گزارش کی کہ وہ اسے واپس لے۔ پارٹی کا الزام ہے کہ یہ بل مسلمانوں کے حقوق چھین لے گا۔

تمل ناڈو اسمبلی نے جمعرات کو متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کر لی ہے جس میں مرکز پر زور دیا گیا ہے کہ وہ وقف ترمیمی بل 2024 کو واپس لے۔ منظور شدہ قرارداد میں اس ترمیمی بل کو ’’مسلمانوں کے مذہبی انتظام میں مداخلت کی ایک اور کوشش‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

تحریر: ہرش رنجن، سینئر صحافی وقف املاک کا مقصد برادری کی فلاح و بہبود ہوتا ہے۔ یہ تعلیم حفظانِ صحت یا مذہبی مقاصد ہو سکتے ہیں، تاہم زمینوں پر ناجائز قبضے، جعلی دعوے اور سیاسی روابط کے حامل افراد کے ذریعہ اس کا غلط استعمال ایسے پہلو رہے ہیں جنہوں نے تشویش پیدا کی ہے۔ ناداروں …

تیجسوی یادو نے کہا کہ یہ بل آئین کے خلاف بل ہے، ہم نے اس کے خلاف پارلیمنٹ سے لیکر اسمبلی تک آواز اٹھائی ہے ،آپ کی اس لڑائی میں ہم ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہیں ،، اس لڑائی میں ہر کسی کو ایک ساتھ آنا ہوگا۔

جب متھرا کا مسئلہ اٹھایا گیا تو سی ایم یوگی نے کہا کہ ہم متھرا کا مسئلہ کیوں نہیں اٹھاتے؟ کیا متھرا شری کرشن کی جائے پیدائش نہیں ہے؟ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے ہم عدالتی احکامات پر عمل کر رہے ہیں۔ ورنہ اب تک وہاں بہت کچھ ہو چکا ہوتا۔

سابق رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 مسلمانوں کے خلاف ہے، اس کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت مسلمانوں کے اوروقف جائیداد پرقبضہ کرنا چاہتی ہے، اس لئے وہ زبردستی ایسے قانون بنا رہی ہے تاکہ وقف کی املاک پراس کا کنٹرول ہوجائے۔

امارت شرعیہ  کی جانب سے جاری اعلامیہ میں وزیراعلیٰ نتیش کمار کے سامنے کچھ مطالبات رکھے گئے ہیں ، ان مطالبات میں  وقف ترمیمی بل کی حمایت کو عوامی طور پر واپس لینے کی درخواست بھی  کی گئی ہے۔