Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Bill 2024

پرشانت کشور نے آر جے ڈی صدر لالو یادو پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ بہار کے لوگوں کو لالو یادو سے سیکھنا چاہیے کہ بچوں کی فکر کرنے کا کیا مطلب ہے۔ لالو یادو کے بیٹے نے نویں جماعت بھی پاس نہیں کی، پھر بھی وہ پریشان ہیں کہ ان کا بیٹا بہار کا راجہ بن جائے۔

جمہوریت میں مخالفت درج کرانے کے لئے احتجاج کا راستہ کھلا رہتا ہے۔ جے ڈی یو اور ٹی ڈی پی کی حمایت کے بغیر وقف ترمیمی بل کو منظور کرانا آسان نہیں ہوگا۔ لیکن مسلم پرسنل لا بورڈ کو ان دونوں ہی پارٹیوں کی طرف سے کوئی مثبت یقین دہانی نہیں کرایا جانا اس بات کی علامت ہے کہ یہ مودی حکومت کے ساتھ ہیں۔

وقف ترمیمی بل 2024 کی مخالفت میں دارالحکومت دہلی واقع جنترمنترپرآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت میں منعقدہ احتجاجی مظاہرہ میں معروف شیعہ عالم دین اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر مولانا کلب جواد نے بھی شرکت کی۔

جے پی سی چیئرمین جگدمبیکا پال نے کہا کہ جو لوگ جنتر منترپ راحتجاج کرنے گئے ہیں۔ انہوں نے رپورٹ بھی نہیں پڑھی ہے۔ دفعہ 370 اور تین طلاق کے وقت بھی ایسے ہی افواہیں پھیلائی گئی تھیں۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذریعہ احتجاجی مظاہرہ میں جماعت اسلامی ہند، مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند، جمعیۃ علماء ہند کے علاوہ مختلف ملی تنظیموں کے رہنماؤں اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈران نے شرکت کی۔

جب یہ بل پاس ہونے کے قریب ہے تو اپوزیشن جماعتوں نے کہا ہے کہ وہ اسے لاگو نہیں ہونے دیں گے اور احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جگدمبیکا پال نے کہا، ’’ہندوستان ایک جمہوریت ہے، جہاں قانون بنانے کا حق عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے پاس ہے۔

اے آئی ایم پی ایل بی کے مطابق، اس احتجاج میں کانگریس، ٹی ایم سی، آر جے ڈی، جے ایم ایم، این سی پی، ایس پی، اے آئی ایم آئی ایم، ڈی ایم کے، اکالی دل، شیو سینا اور آئی یو ایم ایل کے نمائندے شرکت کی۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے وقف ترمیمی بل کو لے کر مرکزی حکومت کو خبردار کیا تھا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے وقف بل کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ بل پارلیمنٹ سے منظور ہوتا ہے تو ملک گیر ایجی ٹیشن شروع کیا جائے گا۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدر نےکہا کہ بل کو جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) کے حوالہ کرنے کاڈھونگ بھی کیا گیا اور اپوزیشن پارٹیوں کے ممبران کی تجاویز اور مشورہ کو رد کردیا گیا، جو 14 ترمیمات کی گئیں ان میں بھی شاطرانہ اندازمیں ایسی دفعات جوڑدی گئیں، جن سے اوقاف پرحکومت کے قبضہ کرنے کی راہ آسان ہوجائے۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ بل کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کو بھیجنے کا ڈھونگ رچایا گیا لیکن اپوزیشن جماعتوں کی تجاویز اور سفارشات کو مسترد کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ جو چودہ ترامیم کی گئیں ان میں بھی چالاکی سے ایسی شقیں شامل کی گئیں جن سے حکومت کو وقف املاک پر قبضہ کرنے میں آسانی ہو جائے۔