Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Bill 2024

جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کی رپورٹ راجیہ سبھا میں پیش ہونے سے متعلق آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ یہ مسلمانوں کے غیر آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ سبھی مسلم تنظیموں کی رائے کونظراندازکرکے اوراپوزیشن اراکین کے مشوروں کوخارج کر کے بل کومنظوری دینے کی سفارش کرنا غیرجمہوری ہے۔

یوپی کے ڈومریا گنج کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 کواسی پارلیمنٹ سیشن میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وقف قانون کوئی نیا قانون نہیں ہے، لیکن اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ غلط برتاؤکررہے ہیں اورغلط طریقے سے اس کی تشریح کررہے ہیں۔

حکومت کو بجٹ 2025-26 کو وسیع تر مفاد میں دیکھنا چاہیے تھا۔ لیکن اس کے برعکس بجٹ میں  کل اخراجات میں تقریباً ایک لاکھ کروڑ کی کمی ہوئی ہے۔ اس سے سماجی اور فلاحی اخراجات پر منفی اثر پڑے گا اور غریبوں کی حالت مزید خراب ہوگی۔

جے پی سی چیئرمین جگدمبیکا پال نے کہا تھا کہ بل میں 572 ترامیم کی تجاویز پیش کی گئیں تھی جن میں سے 44 ترامیم پر بحث ہوئی اور اکثریت کی بنیاد پر کمیٹی نے این ڈی اے اراکین کی 14 ترامیم کو منظور کر لیا۔

وقف ترمیمی بل 2024 کے لیے بنائی گئی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے چیئرمین جگدمبیکا پال بجٹ اجلاس کے دوران پیر (3 فروری 2025) کو لوک سبھا میں رپورٹ پیش کرنے والے ہیں۔

اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ کے سوال پر سعید نوری نے کہا کہ اس قانون کا بنیادی مقصد صرف مسلمانوں کو تکلیف دینا ہے۔ ہم اس کی مخالفت کریں گے اور اس میں شامل کسی بھی کوشش کی مخالفت کرتے رہیں گے۔ مہاراشٹر میں بھی اگر یو سی سی لاگو کیا گیا تو ہم اس کی مخالفت کریں گے۔

وقف بل پر جے پی سی کی میٹنگ ختم ہوگئی ہے۔ جے پی سی میں برسراقتدارکے 14 ترامیم کومنظورکیا گیا۔ اپوزیشن نے 44 ترامیم پیش کی تھیں، لیکن ان سبھی کونا منظورکردیا گیا۔ جے پی سی کی آئندہ میٹنگ 29 جنوری کو ہوگی۔

جن ارکان پارلیمنٹ کو جے پی سی سے معطل کیا گیا ہے ان میں اسد الدین اویسی، عمران مسعود، کلیان بنرجی، اروند ساونت، ناصر حسین، اے راجہ، محب اللہ ندوی، ایم ایم عبداللہ، ندیم الحق، محمد جاوید شامل ہیں۔

وقف ترمیمی بل پر مشترکہ کمیٹی نے، جس کی سربراہی بی جے پی لیڈر جگدمبیکا پال کی ہے، نے اپوزیشن لیڈروں کے اعتراضات کے بعد مسودہ قانون پر بحث کو اگلے ہفتے تک ملتوی کر دیا ہے۔ کمیٹی پیر کو بل پر تفصیلی غور کرے گی۔ میرواعظ کے علاوہ کمیٹی جمعہ کو لائرز فار جسٹس گروپ کے خیالات بھی سنے گی۔

وقف ترمیمی بل-2024 کے لیے تشکیل دی گئی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ منگل کو لکھنؤ میں ہوئی۔ اس میں شیعہ وقف بورڈ نے 'وقف بل استعمال شدہ' جائیدادوں کے مستقبل کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔