Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Bill 2024

سینئر وکیل ہریش سالوے اور دیگر نمائندوں نے داؤدی بوہرہ برادری کے مذہبی عقائد اور کمیونٹی لیڈر سے منسلک اختیارات کا حوالہ دیتے ہوئے جے پی سی کی میٹنگ میں پرزور طریقے سے یہ دلیل دی کہ وقف بورڈ کو اس کمیونٹی کی جائیدادوں اور معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکزی وفد نے نائب صدر ملک معتصم خان کی قیادت میں 4 نومبر 2024 کو وقف (ترمیمی) بل 2024 پر جے پی سی سے ملاقات کی۔ وفد نے معزز کمیٹی کے اراکین کو تفصیلی نمائندگی دی اور مجوزہ بل کے ساتھ اہم مسائل پر روشنی ڈالی۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے مرکزی حکومت کے مجوزہ وقف ترمیمی بل پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے ہندو مذہبی اداروں کے زیر کنٹرول زمین کا ڈیٹا بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ وقف بورڈ کے بارے میں یہ افواہ پھیلانے والے بی جے پی اور سنگھ کو تھوڑا پڑھنا چاہئے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق، وقف ترمیمی بل 2024 سے متعلق وزیرمحصولات اورافسران میں تنازعہ ہوگیا تھا۔ ذرائع کے حوالے سے خبر ہے کہ وقف ترمیمی بل سے متعلق حکومت کی جانب سے سی ای اونے بنائی تھی، جسے ایڈمنسٹریٹراشونی کمارنے بدل دیا تھا۔

راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ 2004 اور2009 میں بی جے پی نے رحمٰن کمیٹی کو نافذ کرنے کی بات کہی تھی۔ 2013 میں جو وقف ترمیمی بل منظور ہوا تھا اس میں بی جے پی نے بھی ساتھ دیا تھا۔ لیکن اب بی جے پی خود الگ اسٹینڈ لے رہی ہے اور وہ نفرت کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کرنا چاہتی ہے۔

منگل کو جے پی سی کی میٹنگ میں وقف (ترمیمی) بل 2024 پر بحث کے دوران ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے ہنگامہ آرائی کے درمیان شیشے کی بوتل توڑ دی۔

اجمل کے دعووں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی نے ان پر خوشامد کی سیاست کرنے کا الزام لگایا۔ بی جے پی قومی ترجمان پردیپ بھنڈاری نے کہا کہ اجمل کے ووٹ بینک نے لوک سبھا انتخابات کے دوران کانگریس کی حمایت کی تھی، جس کی وجہ سے ان کی شکست ہوئی۔

جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں وقف ترمیمی بل 2024 پراپنی آراء اورتجاویزپیش کرنے کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی ( جے پی سی ) سے میٹنگ کی۔

مرکزی وزیر قانون کرن رجیجو نے لوک سبھا میں وقف بل 2024 پیش کیا تھا جس کی کانگریس اور سماج وادی پارٹی سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے مخالفت کی تھی۔ انڈیا اتحاد نے اسے مسلم دشمن قرار دیا۔ یہ بل لوک سبھا میں بحث کے بغیر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل شاہد علی ایڈوکیٹ نے مسلم راشٹریہ منچ اور آرایس ایس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس بل پر میں اوپن ڈبیٹ کرنے کے لئے تیارہوں۔ منافقین آئیں اور اس بل کا ایک بھی فائدہ ثابت کردیں۔