Bharat Express DD Free Dish

Boycott of Nitish Kumar’s Iftar party: امارت شرعیہ بہار نے نتیش کمار کی افطار پارٹی کے بائیکاٹ کا کیا اعلان ،آج ہونے والی افطار پارٹی میں نہیں شامل ہوں گی مسلم تنظیمیں

امارت شرعیہ  کی جانب سے جاری اعلامیہ میں وزیراعلیٰ نتیش کمار کے سامنے کچھ مطالبات رکھے گئے ہیں ، ان مطالبات میں  وقف ترمیمی بل کی حمایت کو عوامی طور پر واپس لینے کی درخواست بھی  کی گئی ہے۔

وقف ترمیمی بل کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور جمعیت وجماعت نے اپنا احتجاج تیز کردیا ہے اور نام نہاد سیکولر سیاسی جماعتوں کی تقریبات کے بائیکاٹ کا آغاز کردیا ہے۔ اسی ضمن میں اب امارت شرعیہ بہار نے  بھی وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے منعقد کی جانے والی افطار پارٹی کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ وقف بل کے معاملے پر نتیش کمار کی حکومت کے عدم  تعاون اور مسلم کمیونٹی کے تحفظات کو نظر انداز کرنے کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ افطار پارٹی آج ہی ہونی ہے۔امارت شرعیہ بہار کے ترجمان نے کہا کہ “وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے وقف بل کے سلسلے میں مسلم کمیونٹی کے جذبات اور مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لیا، جس کی وجہ سے ہمیں یہ سخت قدم اٹھانا پڑا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ بائیکاٹ مسلم تنظیموں اور عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو ظاہر کرتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ افطار پارٹی، جو ہر سال رمضان کے دوران پٹنہ میں منعقد کی جاتی ہے، سیاسی اور سماجی شخصیات کے لیے ایک اہم تقریب سمجھی جاتی ہے۔ تاہم، اس بار امارت شرعیہ کے اس اعلان کے بعد دیگر دینی اور ملی تنظیموں کے بھی بائیکاٹ میں شامل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔حالانکہ امارت شرعیہ کی جانب سے جو اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سمیت 8 سے زیادہ تنظیموں کی حمایت کا بھی ذکر ہے اور ان کے دستخط کے بھی دعوے کئے گئے ہیں ۔

امارت شرعیہ  کی جانب سے جاری اعلامیہ میں وزیراعلیٰ نتیش کمار کے سامنے کچھ مطالبات رکھے گئے ہیں ، ان مطالبات میں  وقف ترمیمی بل کی حمایت کو عوامی طور پر واپس لینے کی درخواست بھی  کی گئی ہے،اس کے علاوہ اوقاف آئینی تحفظ کو یقینی بنائیں اور مسلم تنظیموں کے ساتھ مثبت مذاکرات کا آغاز کریں۔مطالبات کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ وقف بل قانونی شکل اختیار کرجاتا ہے تو اس کیلئے جے ڈی یو مکمل طور پر ذمہ دار ہوگی اور اس غیر آئینی قدم کا جمہوری ،قانونی اور سیاسی طور پر مخالفت جاری رکھیں گے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read