Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Act 2025

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے قومی ترجمان وارث پٹھان اورپارٹی کے دیگرکارکنان وقف قانون کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

 جے ڈی یو لیڈر پرویز صدیقی نے بھی عرضی داخل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرکوئی درج فہرست ذات کا شخص اسلام قبول کرلیتا ہے، تواسے اپنی جائیداد کو وقف کرنے سے روکنا غلط ہے۔

این ڈی اے میں شامل نیشنل پیپلز پارٹی کے لیڈر اور چھیترگاؤ سیٹ سے رکن اسمبلی شیخ نورالحسن نے وقف ترمیمی قانون 2025 کو چیلنج پیش کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

جموں وکشمیر اسمبلی میں وقف ایکٹ پر تجویز منظور نہیں ہو پائی ہے، جس سے سیاسی پارٹیوں میں تشویش ہے۔ پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے اس پرمیٹنگ بلائی۔ پارٹی لیڈران نے اسمبلی کی اس خاموشی پرسنگین اعتراض ظاہرکیا ہے اوروقف املاک کی بدانتظامی کو روکنے کے لئے مناسب قانون سازی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس معاملے پرحکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔

کیرالہ کے ایرناکلم میں، ستمبر 2024 میں، تقریباً 600 عیسائی خاندانوں نے، خاص طور پر چرائی اور منمبم کے علاقوں سے، اپنی زمین پر وقف بورڈ کے دعوے کی مخالفت کی، جس کا ان کا دعویٰ ہے کہ وہ نسلوں سے ان کے قبضے میں ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی، کانگریس رکن پارلیمنٹ محمد جاوید، مولانا ارشد مدنی، آرجے ڈی لیڈرمنوج جھا، اوکھلا کے ایم ایل اے امانت اللہ خان، ایسوسی ایشن فاردی پروٹیکشن آف سول رائٹس، آل کیرل جمعیۃ العلماء، انجم  قادری، طیب خان سلمانی، محمد شفیع وغیرہ نے عدالت میں عرضی داخل کی ہے۔

وقف ترمیمی ایکٹ پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سید ناصر حسین نے کہا کہ کانگریس اور کئی اپوزیشن جماعتوں نے ایک طرفہ اسٹینڈ لیتے ہوئے کہا ہے کہ بل غیر آئینی ہے اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ اسی طرح کا اسٹینڈ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر لیا ہے، بل کے خلاف ووٹ کیا ہے۔

محمد علی شبیراورمحمد ادیب نے خبردارکرتے ہوئے کہا کہ ریاست کومساجد، درگاہوں، قبرستانوں، عیدگاہوں اورصدیوں قدیم وقف اداروں پرقبضے کے عمل کوسہل بنانے کی کسی بھی کوشش کونہیں قبول کیا جا سکتا ہے۔

 ایک اہلکار نے بتایا کہ رگھوناتھ گنج اور سوتی تھانے کے علاقوں میں امتناعی احکامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔ ضلع کے تمام حساس علاقوں بالخصوص جنگی پور شہر اور اس کے آس پاس بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔

رحمانی نے کہا کہ آج کی میٹنگ میں ہم نے ملک بھر کے مسلمانوں کے لیے گائیڈ لائنز جاری کی ہیں کہ وہ متحد ہو کر اس قانون کی مخالفت کریں۔ ہماری یہ ملاقات نتیجہ خیز رہی۔ اس میں بہت سے لوگوں نے حصہ لیا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اس قانون سے ناخوش ہیں۔