Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Act 2025

سپریم کورٹ نے تبصرہ کیاتھا کہ کوئی بھی جائیداد جسے عدالت نے وقف قرار دیا ہے، اسے غیر وقف نہیں سمجھا جائے گا، چاہے وہ وقف صارف نے حاصل کی ہو یا نہ ہو۔ سپریم کورٹ وقف ایکٹ سے متعلق تین سوالات پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد عبوری حکم جاری کرے گی۔

سپریم کورٹ میں وقف قانون کو چیلنج دینے والی 70 سے زائد عرضیوں پرسماعت ہوئی۔ مسلم فریق کی طرف سے بیشتر دلیلیں سینئر وکیل اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ کپل سبل نے رکھی۔ چیف جسٹس سنجیوکھنہ کی قیادت والی تین رکنی بینچ اس موضوع کی سماعت کررہی ہے۔

عدالت نے تبصرہ کیا ہے کہ وقف بورڈ میں سابق ممبران کے علاوہ صرف مسلم ممبران ہونے چاہئیں، جس کی سالیسٹرجنرل تشار مہتا نے مخالفت کی۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے آج کوئی فیصلہ صادرنہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی کسی بورڈ کی مدت ختم نہیں ہورہی ہے۔ پی آئی ایل کی درخواستوں کی سماعت کے بعد اس طرح کے احکامات نہیں دیئے جانے چاہئیں۔ یہاں کوئی وقف بورڈ نہیں آیا ہے۔

مغربی بنگال کے مرشدآباد میں وقف قانون کے خلاف ہوئے احتجاج کے دوران ہوئے تشدد کے بعد ریاست کی صورتحال کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بی جے پی اورترنمول کانگریس آمنے سامنے ہیں اوردونوں ایک دوسرے پرالزام تراشی کررہی ہیں۔

دیا سنگھ نے اس قانون کو مسلمانوں کے خلاف امتیازی قرار دیاہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ ہندو اور سکھ مذہبی ٹرسٹوں کو خود مختار قانونی حیثیت حاصل ہے لیکن اس قانون کو لا کر مسلم وقف کے معاملات میں حکومتی مداخلت بڑھا دی گئی ہے جو کہ آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے۔

مرکزی حکومت نے عدالت میں کیویٹ بھی داخل کیا ہے۔یہ ایک قسم کا قانونی نوٹس ہے جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے دائر کیا جاتا ہے کہ اگر کوئی حکم صادر ہوتا ہے تو اس فریق کو سنا جاتا ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے میٹنگ میں بتایا کہ جمعیۃ علماء ہند نے وقف کے تحفظ کے لیے آزادی سے قبل اوربعد میں تاریخی کردارادا کیا ہے۔ 1937 میں شریعت ایپلی کیشن ایکٹ اوربعد ازاں وقف ایکٹ 1954 اور1995 میں جمعیۃ کی سفارشات کو شامل کیا گیا، لیکن موجودہ حکومت کسی بھی دینی اورقانونی ادارے کی رائے کو خاطرمیں نہیں لائی۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ وقف قانون میں مرکزی حکومت کے ذریعہ من مانی، متنازعہ، دستوری حقوق سے متصادم ، امتیازوتفریق اورفرقہ واریت پرمبنی ترمیمات نے فی الواقع مسلمانوں کے جذبات کو برانگیختہ کر دیا ہے، جس کا اظہار ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاج و مظاہروں کی شکل میں ہو رہا ہے۔

نئے وقف ترمیمی ایکٹ کی دفعہ3 ای کے تحت درج فہرست قبائل کے لوگوں کی زمین کو وقف جائیداد قرار دینے سے منع کیا گیا ہے۔ قبائلی تنظیمیں اسے اپنی برادری کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک اہم شق سمجھ رہی ہیں۔

جے ایم ایم نے ریاست میں صنعتوں اور دیگر کاموں کے لیے حاصل کی گئی ویسی زمینوں کو واپس کرنے کا قرارداد بھی پاس کیا ہے، جن کا استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔ قرارداد میں زمین کی واپسی اور حصول اراضی کی وجہ سے بے گھر ہونے والے لوگوں کی بحالی کے لیے کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔