Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Act 2025

کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے وقف ترمیمی قانون پر سپریم کورٹ کے تبصروں کو آئینی تحفظات کی توثیق قرار دیا۔ عدالت عظمیٰ نے جائیدادوں کی حیثیت برقرار رکھنے کی اہم ہدایت جاری کی ہے

وقف قانون سے متعلق  درخواست پرسماعت کرنے والی بنچ میں چیف جسٹس آف انڈیا سنجیوکھنہ، جسٹس سنجےکماراورجسٹس کے وی وشوا ناتھن شامل ہیں۔ ایک طرف اپوزیشن کے اراکین اورمسلم تنظیموں کی طرف سے داخل عرضیوں پرروک نہیں لگائی گئی تو دوسری جانب حکومت کو جواب داخل کرنے کے لئے سات دنوں  کا وقت دے دیا، لیکن کسی بھی طرح کی تقرری پر عدالت نے روک لگا دی اور موجودہ صورتحال برقرار رہے گی۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ وقف املاک کی حیثیت تب تک نہیں بدلے گی جب تک کہ مرکزکا جواب نہیں آجاتا۔ عدالت کی طرف سے وقف قرار دی گئی جائیداد کو ڈی نوٹیفائی نہیں کیا جائے گا۔ خواہ یہ وقف صارف کے ذریعہ ہو یا عمل کے ذریعہ۔ وقف بورڈ اور سینٹرل وقف کونسل میں کوئی نئی تقرری نہیں ہوگی۔

سپریم کورٹ میں وقف ترمیمی ایکٹ کی سماعت پرآل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے کہا کہ ہم اس ایکٹ کو غیر قانونی مانتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سینٹرل وقف کونسل اور اسٹیٹ وقف کونسل کی تشکیل نہیں کی جائے گی اور وقف بائی یوزر کو ہٹایا نہیں جاسکتا ہے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسیٹرجنرل تشارمہتا نے پیش ہوکرعدالت سے استدعا کی کہ انہیں ابتدائی جواب اورمتعلقہ دستاویزات داخل کرنے کے لیے سات دنوں کی مہلت دی جائے، جسے عدالت نے منظورکرلیا۔

درخواست گزاروں کو اہم نکات پر اتفاق کرنا چاہیے۔ ان اعتراضات کو نوڈل کونسل کے ذریعے حل کریں۔ عدالت نے مرکز کو جواب دینے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا ہے۔ تب تک وقف بورڈ اور کونسل میں کوئی نئی تقرری نہیں ہوگی۔

سپریم کورٹ نے وقف ترمیمی قانونی پر عبوری فیصلہ سنا دیا ہے اور اس فیصلے کے تحت مرکزی حکومت کو ایک ہفتے میں تفصیلی جواب دینے کا موقع دیا گیا ہے تب تک اس نئے ترمیمی قانون کے تحت کوئی تقرری نہیں ہوگی۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی سربراہی والی تین رکنی بنچ وقف ترمیمی قانون پر آج پھر سماعت شروع ہوچکی ہے۔ اور آج ایسا ممکن ہے کہ سپریم کورٹ آج اس قانون سے متعلق عبوری فیصلہ بھی صادر کرے۔

مسلمانوں کے احتجاج ومظاہرے کے بیچ بی جے پی کا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی مہم کے ذریعے اعتماد بحال کرے گی اور کمیونٹی کے خدشات  کودور کرے گی۔ اگرچہ حکومت کا موقف ہے کہ یہ قانون شفافیت اور بہتری لے کر آئے گا۔