Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Act 2025

سالسٹرجنرل تشارمہتا نے کہا کہ 1923 سے 1995 کے وقف قانون تک یہ انتظام تھا کہ صرف مسلمان ہی وقف کرسکتے ہیں۔ 2013 میں الیکشن سے قبل ایک قانون بنایا گیا تھا کہ کوئی بھی وقف کر سکتا ہے۔

وقف ترمیمی قانون سے متعلق سپریم کورٹ میں آج اہم سماعت ہوگی۔ چیف جسٹس بی آرگوئی اور جسٹس آگسٹن جارج مسیح کی بینچ سماعت کرے گی اور بھارت سرکار کی طرف سے بھی عدالت میں اپنا موقف رکھا جائے گا۔

سینئروکیل کپل سبل نے کہا کہ وقف کرنے کے لئے کم ازکم 5 سال مسلم ہونا ضروری اورجائیداد پرتنازعہ کا نمٹارہ کرنے کا اختیار کلکٹر کو دینے جیسے التزام اگرنافذ ہوگئے توناقابل تلافی نقصان ہوگا۔

وقف ترمیمی قانون 2025 کو چیلنج دینے والی عرضیوں پرسپریم کورٹ میں آج سماعت شروع ہوگئی ہے۔ جسٹس بی آرگوئی اور جسٹس مسیح کی بینچ سماعت کررہی ہے۔

عدالت کی جانب سے متعین کی گئی پانچ پٹیشن میں مولانا ارشد مدنی کی پٹیشن کا پہلا نمبر ہے، جس پرسینئرایڈوکیٹ کپل سبل نے آج بحث کی۔ اگلی سماعت پرعدالت وقف ترمیمات پرعبوری اسٹے کے تعلق سے ہی سماعت کرے گی، اس بات کا خلاصہ چیف جسٹس گوئی نے آج دوران سماعت کیا۔

سپریم کورٹ میں آج وقف ترمیمی قانون کوچیلنج دینے والی عرضیوں پرسماعت ہوئی۔ اب اس معاملے میں اگلی سماعت 20 مئی کو ہوگی۔ عدالت نے کہا کہ اگلی سماعت کے دوران ہندوفریق کی طرف سے وقف ایکٹ 1995 کے جوازکوچیلنج کرنے والی کسی بھی درخواست پرغورنہیں کیا جائے گا۔

وقف ترمیمی قانون کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر آج دوسری بار سماعت ہونے والی تھی لیکن چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی ریٹائرمنٹ کو دیکھتے ہوئے اب اس معاملے کو جسٹس بی آر گوائی کی بنچ کے سپرد کردیا گیا ہے اور اس کیلئے نئی تاریخ 15 مئی متعین کی گئی ہے۔

مولانا مدنی نے پہلگام واقعہ کے بعد ملکی میڈیا کی طرف سے اسے مذہبی رنگ دینے کی خطرناک سازش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح مقامی لوگوں نے مذہب سے بالاتر ہو کر حملے کے دوران اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر دہشت گردوں سے سیاحوں کو بچایا۔

مظاہرے کی ایک نئی کڑی کےطور پر آج ملک بھر میں بتی گل یعنی لائٹ آف کرکے خاموش احتجاج درج کرانے کی خصوصی اپیل کی گئی ہے۔گزشتہ روز آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے اس سلسلے میں ایک بیان جاری کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے وقف ایکٹ کو چیلنج کرنے والی نئی عرضیوں پر سماعت سے انکار کر دیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ پہلے سے دائر پانچ درخواستوں پر ہی غور ہوگا، نئی عرضیاں مسترد کر دی گئیں ہیں