سپریم کورٹ نے منگل کے روز وقف ایکٹ کو چیلنج کرنے والی ایک درجن سے زائد نئی مفاد عامہ کی عرضیوں پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سنجیو کھنہ کی صدارت والی بیچ نے کہا کہ اس معاملے میں پہلے ہی پانچ درخواستوں کو سماعت کے لیے منظور کیا جا چکا ہے، لہٰذا اب مزید عرضیاں قبول نہیں کی جائیں گی۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ بیشتر عرضیاں ایک دوسرے سے مماثلت رکھتی ہیں اور کچھ تو مکمل طور پر نقل کی گئی ہیں۔ بنچ نے کہا کہ اگر کسی درخواست گزار کے پاس کوئی نیا یا اضافی قانونی جواز ہے، تو وہ پہلے سے جاری مرکزی مقدمے میں مداخلت کار یا فریق کی حیثیت سے شامل ہوسکتے ہیں۔
اب کوئی نئی درخواست قبول نہیں کی جائے گی
چیف جسٹس نے صاف لفظوں میں کہا، ’’ہم اس معاملے میں مزید کوئی نئی عرضی نہیں سننا چاہتے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی عدالت نے تمام نئی عرضیاں مسترد کر دیں۔ مسترد کی گئی ان عرضیوں میں کئی اہم شخصیات اور تنظیمیں شامل تھیں، ان درخواستوں میں جموں و کشمیر کے ایم ایل اے ارجن سنگھ راجو، آل انڈیا مسلم وکاس پریشد، مالدہ متولی ویلفیئر ایسوسی ایشن، اور راجیہ سبھا کے رکن ڈیریک او برائن وغیرہ کی درخواستیں شامل تھیں۔
چیف جسٹس نے مزید سماعت سے انکار کرتے ہوئے کہا: “اب کوئی نئی درخواست قبول نہیں کی جائے گی، آپ مداخلتی درخواست دائر کریں — ان میں سے کچھ درخواستیں تو لفظ بہ لفظ ایک جیسی ہیں۔”
ڈیریک او برائن کے وکیل نے بھی درخواست کی کہ ان کے مؤکل کا معاملہ سنا جائے، کیونکہ وہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی پہلی میٹنگ سے ہی اس عمل کا حصہ رہے ہیں۔ اس موقع پر جسٹس سنجے کمار نے چیف جسٹس کی بات دہراتے ہوئے کہا: “کیا آپ نے چیف جسٹس کی بات سنی؟ ہم نئی آئینی درخواستیں قبول نہیں کر رہے۔ اگر آپ کے پاس موجودہ درخواستوں میں کچھ نیا شامل کرنے کو ہے، تو مداخلتی درخواست دائر کریں اور اضافی نکات اٹھائیں، بس اتنا ہی۔”
ایک اور درخواست میں وکیل نے استدعا کی کہ ان کے مؤکل کی واحد گزارش یہ ہے کہ ‘وقف اثاثہ جات مینجمنٹ سسٹم آف انڈیا’ نامی پورٹل کو ختم نہ کیا جائے، جو سچر کمیٹی کی سفارشات کے بعد قائم ہوا تھا اور اس میں منقولہ و غیر منقولہ جائیدادوں کا وسیع ڈیٹا موجود ہے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالت پہلے ہی پانچ درخواستوں پر ترمیم کی آئینی حیثیت سے متعلق سماعت کر رہی ہے، اور بہتر یہی ہوگا کہ نئے درخواست گزار انہی سماعتوں میں بطور مداخلت کار اضافی نکات اٹھائیں۔ اس معاملے پر اگلی سماعت اب5 مئی، دوپہر 2 بجے ہوگی۔ عدالت نے مقدمے کے عنوان کو تبدیل کر کے “In Re: Waqf Amendment Act” کر دیا ہے۔
لائیو لا ویب سائٹ کے مطابق مسترد کی جانے والی عرضیاں مندرجہ ذیل ہیں:
1- فیروز اقبال خان بنام یونین آف انڈیا و دیگر کیس نمبر: W.P.(C) No. 341/2025
2- آل انڈیا مسلم وکاس پریشد و دیگر بنام یونین آف انڈیا ڈائری نمبر: 19896-2025
3- سید محمد حمد اللہ بنام یونین آف انڈیا کیس نمبر: W.P.(C) No. 419/2025
4- امارتِ شریعہ بنام یونین آف انڈیا کیس نمبر: W.P.(C) No. 370/2025
5- ارجن سنگھ راجو و دیگر بنام یونین آف انڈیا ڈائری نمبر: 20007-2025
6- محمد باجد امین و دیگر بنام یونین آف انڈیا کیس نمبر: W.P.(C) No. 429/2025
7- توصیف احمد خان بنام یونین آف انڈیا ڈائری نمبر: 20184-2025
8- خواجہ سید شاہ عبید اللہ حسینی و دیگر بنام یونین آف انڈیا و دیگر ڈائری نمبر: 21028-2025
9- مالدہ متولیز ویلفیئر ایسوسی ایشن بنام یونین آف انڈیا ڈائری نمبر: 21445-2025
10- ڈیریک اوبرائن و دیگر بنام یونین آف انڈیا کیس نمبر: W.P.(C) No. 425/2025
11- محمد عبد المتین بنام یونین آف انڈیا و دیگر ڈائری نمبر: 21801-2025
12- ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی و دیگر بنام یونین آف انڈیا و دیگر کیس نمبر: W.P.(C) No. 433/2025
یہ عرضیاں وقف ایکٹ میں حالیہ ترامیم کی آئینی حیثیت اور بعض دفعات پر سوال اٹھا رہی تھیں۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ وقف ایکٹ کے تحت دیے گئے اختیارات اور انتظامی طریقہ کار آئینی اصولوں سے متصادم ہیں۔ عدالت کے اس فیصلے کو وقف ایکٹ سے متعلقہ تنازعات کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ پہلے سے منظور شدہ پانچ عرضیوں کو ترجیحی بنیادوں پر تصفیہ جائے گا تاکہ جلد اور واضح فیصلہ سامنے آ سکے۔
پہلے سے سماعت کے لیے نامزد پانچ درخواستیں:
1- جمعیۃ علماء ہند کے صدر ارشد مدنی کی درخواست
2- سماجی کارکن محمد جمیل کی درخواست
3- آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری محمد فضل الرحیم کی درخواست
4- منی پور کے ایم ایل اے شیخ نورالحسن کی درخواست
5- آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی کی درخواست
عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ بار بار ایک جیسی نوعیت کی عرضیاں داخل ہونے سے عدالتی نظام پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے اور انصاف کے عمل میں تاخیر ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ وقف ایکٹ کو لے کر ملک بھر میں مختلف حلقوں کی جانب سے مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کئی عرضیوں میں اس قانون کو آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر منسوخ کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

