Bharat Express DD Free Dish

Waqf Act 2025: وقف قانون سے متعلق آئی ایم سی آرکو سپریم کورٹ سے بڑی امیدیں، مرکزی حکومت کو مسلمانوں کی فکر نہیں

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ وقف املاک کی حیثیت تب تک نہیں بدلے گی جب تک کہ مرکزکا جواب نہیں آجاتا۔ عدالت کی طرف سے وقف قرار دی گئی جائیداد کو ڈی نوٹیفائی نہیں کیا جائے گا۔ خواہ یہ وقف صارف کے ذریعہ ہو یا عمل کے ذریعہ۔ وقف بورڈ اور سینٹرل وقف کونسل میں کوئی نئی تقرری نہیں ہوگی۔

انڈین مسلم فارسول رائٹس نے عدالت عظمیٰ سے امید کا اظہار کیا ہے۔

نئی دہلی: وقف ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج دینے والی عرضیوں پرسماعت کے بعد سپریم کورٹ نے عبوری حکم جاری کیا ہے۔ قانون کی آئینی حیثیت پرعدالت عظمیٰ میں جمعرات کی سماعت پوری ہونے کے بعد صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے انڈین مسلم فارسول رائٹس (آئی ایم سی آر) کے چیئرمین اورسابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے کہا کہ آج سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ کے رخ سے وہ پُرامید ہیں کہ اگلی سماعت میں عدالت ضرورراحت دے گی۔ انہوں نے ایک پھرکہا کہ یہ قانون پوری طرح سے غیرآئینی اورغیر دستوری ہے۔ محمد ادیب نے کہا کہ مرکزی حکومت کواگرغریب مسلمانوں کی اتنی ہی فکرہے تووہ مولانا آزاد فاؤنڈیشن کے ذریعے مسلم طلبہ وطالبات کو دی جانے والی اسکالر شپ کوپھرسے شروع کرے۔ محمد ادیب نے مرکزکی بی جے پی حکومت کوخبردارکرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو سمجھ لینا چاہئے کہ مسلم دشمنی سے ملک کا کوئی بھلا نہیں ہوگا، بلکہ یہ قدم ملک کو مزید کمزورکرے گا۔

مرکزی حکومت کے نفاذ کا فیصلہ قطعاً مناسب نہیں: محمد علی شبّیر

آئی ایم سی آرکے ایک دوسرے درخوست گزاراورحکومت تلنگانہ کے مشیرمحمد علی شبّیرنے کہا کہ مرکزی حکومت کے نفاذ کا فیصلہ قطعاً مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ان کی حکومت نے مسلمانوں کی ترقی کے لئے چارفیصد ریزرویشن دیا، جس کا نتیجہ ہے کہ آج تلنگانہ کا مسلمان ہراعتبارسے دیگرریاستوں کے مسلمانوں سے بہت بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دراصل مرکزی حکومت کا یہ قدم پوری طرح سے غیرآئینی وغیردستوری ہے۔ اس کے نفاذ کی مخالفت اس لئے کی جانی ضروری ہے۔ کیونکہ قانون مسلمانوں کے وقف کی املاک کو چھین کرکچھ چنندہ لوگوں کوفائدہ پہنچانے کی کوشش ہے۔ محمد علی شبّیرنے کہا کہ تلنگانہ میں وقف کی لاکھوں ایکڑاراضی جس سے مسلمان ہی نہیں بلکہ دیگرمذاہبِ کے لوگوں کو مل رہا فائدہ ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ عدالت عظمیٰ اگلی سماعت میں اس غیرآئینی قانون کومسخ کرکے عوام کوراحت دینے کا کام کرے گی۔

آئی ایم سی آرسمیت 73 عرضیاں ہوئی تھیں داخل

آپ کو بتادیں کہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے جمعرات کی روزوقف ترمیمی قانون 2025 کی آئینی حیثیت کوچلینج کرنے والی انڈین مسلمس فار سول رائٹس سمیت 73 درخواستوں پرسماعت کرتے ہوئے فوری راحت دینے سے انکارکیا ہے۔ چیف جسٹس اف انڈیا جسٹس سنجیو کھنہ کی سربراہی والی تین رکنی بینچ نے اس اہم مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے تین اہم باتیں کہیں ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ وقف املاک کی حیثیت تب تک نہیں بدلے گی جب تک کہ مرکزکا جواب نہیں آجاتا۔ عدالت کی طرف سے وقف قرار دی گئی جائیداد کو ڈی نوٹیفائی نہیں کیا جائے گا۔ خواہ یہ وقف صارف کے ذریعہ ہو یا عمل کے ذریعہ۔ وقف بورڈ اورسینٹرل وقف کونسل میں کوئی نئی تقرری نہیں ہوگی۔

عدالت عظمیٰ میں دو دنوں تک ہوئی سماعت

اس سے قبل بدھ کی روز سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے قانون کے کچھ نکات پرمرکزی حکومت سے جواب طلب کیا تھا۔ مرکزی حکومت کی نمائندگی سالیسٹرجنرل تشارمہتا کررہے تھے جبکہ آئی ایم سی آرکی طرف سے سینئروکیل آنند گرووراورایڈوکیٹ فضیل احمد ایوبی نے اپنے مضبوط دلائل پیش کیے۔ وہیں سینئروکیل کپل سبل، ابھیشیک منو سنگھوی، راجیو دھون اورحذیفہ احمدی وغیرہ نے بھی اپنی اپنی دلیلیں پیش کی تھیں۔ تاہم اب صرف پانچ عرضیوں پرہی سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read