Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Act 2025

وقف ایکٹ کو لے کر بی جے ڈی کے موقف نے حال میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ پارٹی کے بعض لیڈران کا خیال ہے کہ پارٹی ہائی کمان کو اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی پارٹی کے اندر ایک دھڑا اسے سیکولرازم کے اصولوں کے خلاف مان رہا ہے۔

جماعت اسلامی ہند نے نئے ترمیمی قانون پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ترمیمات، شہریوں کے بنیادی حقوق کے سراسرخلاف اور ہندوستان میں وقف کے مذہبی اور فلاحی کردارکو متاثر کرنے والی ہیں۔

وقف (ترمیمی) بل کے پچھلے ہفتے قانون بننے کے بعد اقلیتی امور کی وزارت کی ایک ٹیم کو وقف املاک کا معائنہ کرنے کے لیے چھتیس گڑھ بھیجا گیا ہے۔

تملگا ویتری کزگم (ٹی وی کے) کے صدر اور مشہور تمل اداکار وجے نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے۔

مجلس عاملہ جمعیۃ علماء ہند نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ اس قانون کو فوری طور واپس لے اور پر امن مظاہرے کو روکنےسے باز آئے ، مجلس عاملہ نے اتراکھنڈ میں مدارس کے خلاف کارروائی ،یکساں سول کوڈ، بلڈوزر کارروائی کو آئین مخالف عمل قرار دیا، فلسطین کے معاملے میں بھارت سرکار سے مداخلت کی گزارش۔ جمعیۃ کی رواں ممبر سازی کی مدت میں بھی توسیع

ریاستی حکومت نے ایکٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک شفاف اور آئینی اصلاحات ہے جس کا مقصد سرکاری اور نجی اراضی کو وقف املاک کے طور پر من مانی طور پر اعلان کرنے کے عمل کو روکنا ہے۔

مرشدآباد سمیت مغربی بنگال کے کئی اضلاع میں وَقف قانون کے خلاف احتجاج کے دوران تشدد بھڑک اُٹھا۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی افواہوں پر دھیان نہ دیں اور کسی بھی طرح کی غیر مصدقہ اطلاع کو نظرانداز کریں۔ مرشدآباد پولیس کے مطابق امن و قانون کی صورتحال کو بگاڑنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے کچلا جائے گا۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وقف ترمیمی قانون کے خلاف مغربی بنگال، تمل ناڈو اور کرناٹک کے وزرائے اعلیٰ کے ’’جرات مندانہ اور اصولی موقف‘‘ کے لیے شکریہ ادا کیا۔

عرضی گزار صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی نے کہا کہ یہ قانون آئین ہند کی متعدد بنیاد ی دفعات سے متصادم، اکثریتی ذہنیت کی پیداوار اور بدنیتی پر مبنی 13 اپریل کو جمعیۃ علماء ہندکی مجلس عاملہ کے اجلاس میں مزید اقدامات پر غور ہوگا۔

کولکاتا کے عالیہ یونیورسٹی کے طلبا نے جمعہ کے روز نئے وقف قانون کی مخالفت میں ریلی نکالی اوراسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ طلبا نے کیمپس کے اندر مارچ نکالا اور نعرے لگائے۔