Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Act 2025

تحریک عدم اعتماد پر راتھر نے کہا کہ اگر کسی نے میرے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے تو یہ جمہوری عمل کا حصہ ہے، ہم اس کی تحقیقات کریں گے اور ایوان جو بھی فیصلہ کرے گا ہم اس کا احترام کریں گے۔ راتھر نے یہ بھی کہا کہ ان کا کام غیر جانبداری اور آئینی ذمہ داریوں کے مطابق کام کرنا ہے۔

صدر جمہوریہ سے منظوری ملنے کے بعد یہ طے نہیں تھا کہ نیا قانون کب سے نافذ ہوگا۔ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اس قانون کے 8 اپریل سے ہی نافذ ہونے کی وضاحت ہو گئی ہے۔ حالانکہ اس قانون کے خلاف عدالت میں لڑائی شروع ہو چکی ہے۔

جمعیۃعلماء ہند کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے اس معاملہ پر فوری سماعت کی درخواست کی تھی۔ وقف قانون آئین ، سیکولرازم اورملک کے امن واتحادکے لئے ایک بڑاخطرہ :مولانا ارشدمدنی

ذرائع سے خبر مل رہی ہے کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ میں 15 اپریل کو سماعت ہوسکتی ہے۔ عدالت کی طرف سے چیف جسٹس کی بنچ 15 اپریل کو اس معاملے کی سماعت کرسکتی ہے ۔ حالانکہ حتمی اعلان باقی ہے۔

واضح رہے کہ صبح 10:16 بجےاسمبلی کی کارروائی دوبارہ شروع ہونے کے چند منٹ بعد ہی ہنگامے کی وجہ سے معطل کر دی گئی۔ نیشنل کانفرنس کے رہنما الطاف کھالو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ "ہم اس قانون کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔

جموں وکشمیراسمبلی میں وقف قانون سے متعلق تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے وقف پر تبادلہ خیال کے لئے وقفہ سوال ملتوی کرنے کی تجویز کو منظور کردیا۔ یہ تجویز نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی نظیر گریزی اور تنویر صادق نے پیش کی تھی۔ اس کے بعد جم کرہنگامہ ہوا۔

امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے کہا ’’یہ بل جس نے اب قانونی حیثیت حاصل کر لی ہے، مذہبی امتیازاورجانبداریت پرمبنی ہے، اسے اقلیتی حقوق کے لیے ایک سیاہ باب کے طور پر جانا جائے گا۔ یہ قانون ملک میں مذہبی آزادی اور آئینی حقوق پر براہ راست حملہ ہے۔

وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے نوٹیفکیشن کو روکنے کے لیے عبوری راحت کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔ ہم اپنے خون کے آخری قطرے تک آئین کی بالادستی، سیکولرازم، جمہوریت اور وقف کے تحفظ کے لیے اپنی قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے:مولانا ارشد مدنی

جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر نے کہا کہ وقف قانون کا معاملہ عدالت میں زیر غور ہے، اس لیے اس پر بحث نہیں ہو سکتی۔ نیشنل کانفرنس کے اراکین اسمبلی نے اس قانون کے خلاف ایوان میں نعرہ بازی بھی کی۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اوقاف کا تحفظ ہمارامذہبی فریضہ ہے. رٹ پٹیشن میں نوٹیفیکشن جاری کرنے سے روکنے کے لئے عبوری ہدایت جاری کرنے کی بھی درخواست خون کے آخری قطرہ تک آئین کی بالادستی، سیکولرازم ،جمہوریت اوراوقاف کے تحفظ کے لئے قانونی اور جمہوری خون کے آخری قطرہ تک آئین کی بالادستی، سیکولرازم، جمہوریت اوراوقاف کے تحفظ کے لئے قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے.