ممبئی پولیس نے اے آئی ایم آئی ایم لیڈر وارث پٹھان کو حراست میں لے لیا۔ (تصویر: اے این آئی)
وقف ترمیمی قانون 2025 کے خلاف احتجاج کے دوران ممبئی میں پولیس نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے لیڈروارث پٹھان کو حراست میں لیا۔ وقف قانون کے خلاف احتجاج میں شامل پارٹی کے دیگرکارکنان کوبھی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ اس کا ایک ویڈیوبھی سامنے آیا ہے۔ اس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ لوگ ہاتھوں میں وقف قانون کے خلاف پلے کارڈ لئے ہوئے ہیں۔ وارث پٹھان نے بھی وقف قانون کی مخالفت میں کالی پٹی باندھ رکھی تھی۔ اس دوران پولیس انہیں گاڑی میں بٹھا لیتی ہے۔ انہیں حراست میں لئے جانے کے دوران زبردست نعرے بازی بھی ہوئی۔
دراصل، جمعہ کی نمازکی بعد مسلم سماج کے لوگوں نے وقف قانون کے خلاف زبردست مخالفت درج کرائی۔ ممبئی کے بائیکولا میں ہندوستانی مسجد کے باہراے آئی ایم آئی ایم اس احتجاجی مظاہرہ کی قیادت کررہی تھی۔ جب وارث پٹھان نمازادا کرنے کے لئے مسجد پہنچے تو وہاں کھڑے ایک شخص نے ان کے ہاتھ پرکالی پٹی باندھی۔ میڈیا کے کیمرے پرانہوں نے کہا کہ وہ نمازادا کرنے جا رہے ہیں۔ نماز کے بعد پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔
#WATCH | Mumbai, Maharashtra: Police detains AIMIM National Spokesperson Waris Pathan and other party leaders and workers who were protesting against the Waqf Amendment Bill. pic.twitter.com/OyLVI2Evzj
— ANI (@ANI) April 11, 2025
پولیس پہلے سے تھی موجود
مسجد کے باہر پہلے سے پولیس تعینات تھی۔ وہاں ممبئی پولیس کے بیریکیڈس اورگاڑیاں بھی لگی تھیں۔ مسجد کے آگے جمع ہونے والی بھیڑاور نقل وحمل کو پولیس کنٹرول بھی کررہی تھی۔ تبھی نماز کے بعد احتجاج شروع ہوگیا اور بعد میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے حراست میں لے لیا۔ اس سے پہلے ہندوستانی مسلمان وقف قانون کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں، لیکن پولیس انہیں روکنا چاہتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


