Bharat Express DD Free Dish

Waris Pathan

وارث پٹھان نے کہا کہ جس معاملے کو لے کر سیاسی بحث جاری ہے، اس میں فردِ جرم پہلے ہی داخل کی جا چکی ہے اور مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ ایسی صورت حال میں کسی بھی سیاسی لیڈر کو عدالت کے فیصلے سے قبل کوئی رائے قائم کرنے یا فیصلہ سنانے کا اختیار نہیں ہے۔

وارث پٹھان نے سڑکوں پر نماز ادا کرنے کے معاملے پر اٹھائے جانے والے اعتراضات پر بھی سوال کھڑے کیے۔ انہوں نے کہا کہ سڑک پر نماز نہ پڑھنے کی بات کی جاتی ہے، لیکن میرا روڈ کے باہر لوگ سڑکوں پر بھجن اور کیرتن کر رہے ہیں۔ کیا ان کے لیے کوئی قانون نہیں ہے؟ کیا تمام قوانین صرف مسلمانوں کے لیے ہیں؟

مکوکا کے تحت کارروائی کی وارننگ پر اپوزیشن برہم، حکومت نے غیر قانونی گئو کشی کے خلاف سختی کا اعلان کر دیا۔

مہاراشٹر کے ممبرا علاقے کو ’ہرے رنگ میں رنگنے‘ سے متعلق اے آئی ایم آئی ایم کی نوجوان کونسلر سحر شیخ کے بیان پر شروع ہوا سیاسی تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ بی جے پی کی جانب سے مسلسل تنقید کے درمیان اب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سینئر لیڈر اور قومی ترجمان وارث پٹھان کے تازہ بیان نے ملک بھر میں سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔

وارث پٹھان نے الزام لگایا کہ کانگریس کی نیت اور سوچ صاف ظاہر ہو رہی ہے، کیونکہ پارٹی کو مسلمانوں کی سیاسی قیادت یا ان کے سیاسی بااختیار ہونے سے کوئی حقیقی سروکار نہیں ہے

وارث پٹھان نے کہا کہ حکومت کو سخت پالیسی اپنانی چاہئے۔ اگر ہم میچ نہیں کھیلیں تو کون سا پہاڑ ٹوٹ جائے گا؟ جب سارے رشتے توڑ دیے ہیں اور سوشل میڈیا ہینڈلز پر پابندی لگا دی ہے تو ٹورنامنٹ کیوں کھیلنا؟ حکومت کو ہندوستان کے لوگوں کے جذبات کی پرواہ تو ہونا چاہئے۔ پاکستان بار بار غلطی کرتا ہے پھر بھی ہم ان کے ساتھ کھیلتے ہیں، ہم کیا جواب دیں گے ان بہنوں کو، جن کا سندور اجڑ گیا؟

وارث پٹھان نے کہا کہ کل رات پولیس فورس مدن پورہ کی بڑی مسجد میں آئی، اس دوران انہیں مسجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کو کہا گیا، وہاں افراتفری کا ماحول بن گیا۔ ایسے میں امن و امان کی صورت حال بھی پیدا ہوسکتی تھی۔

اے آئی ایم آئی ایم کے ترجمان وارث پٹھان نے کہا کہ ایک بار غلطی کرنے والا شیطان ہے اور بار بار ایک ہی غلطی کرنے والا پاکستان ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے قومی ترجمان وارث پٹھان اورپارٹی کے دیگرکارکنان وقف قانون کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

پٹھان نے وقف ایکٹ میں مرکز کی تجویز پر سوال اٹھایا جس میں کہا گیا ہے کہ وقف بورڈ میں دو غیر مسلم ارکان ہوں گے۔ انہوں نے اسے مساجد اور مدارس کی جائیدادوں پر قبضے کی کوشش قرار دیا اور بی جے پی کی نیتوں پر سوالیہ نشان لگایا۔