Bharat Express DD Free Dish

Volodymyr Zelenskyy

یوکرینی صدر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اجلاس میں ہونے والی گفتگو کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔ ان کے مطابق روس کو یہ واضح پیغام جانا چاہیے کہ اس کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کو کبھی معمول کا حصہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ان تمام ممالک اور رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا جو یوکرین کے امن اور خودمختاری کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

یوکرین کے صدر ولودیمیر زلنسکی نے روسی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ روس نے ایک ہی رات میں 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرون یوکرینی شہروں پر داغے۔ ان کے مطابق یہ حملہ گزشتہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیو پر ہونے والا تیسرا بڑا حملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ روس شہری آبادی کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

روسی وزارت دفاع نے تقریباً 8 ہزار 970 جنگ بندی خلاف ورزیوں کی اطلاع دی تھی۔ دوسری جانب یوکرینی حکام نے الزام لگایا کہ روسی حملے جنگ بندی کے باوجود جاری رہے، جن میں کم از کم ایک شخص ہلاک جب کہ 15 افراد زخمی ہوئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بس ٹرنیوکاکس بے کے قریب چل رہی تھی، جو فرنٹ لائن سے تقریباً پینسٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ حملے کی شدت کے باعث بس کو شدید نقصان پہنچا اور موقع پر ہی کئی افراد کی موت ہوگئی۔

 ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب روس-یوکرین جنگ کو تقریباً چار سال مکمل ہونے کو ہیں اور اس دوران ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو آنے والے دنوں میں مشرقی یورپ کی سیاست میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف سے کہا کہ وہ کابینہ کو مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کریں۔ اسٹیو وِٹکوف نے بتایا کہ یوکرین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے بعد جتنی پیش رفت ہوئی ہے، اتنی گزشتہ چار برسوں میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔

دارالحکومت کیف میں نئے سال کے بعد یہ رات کے وقت ہونے والے بڑے حملوں میں سے ایک ہے۔ ان حملوں کے باعث سیکڑوں رہائشی عمارتوں میں بجلی اور ہیٹنگ کا نظام متاثر ہو گیا ہے۔ ہنگامی خدمات کے اہلکار متاثرہ علاقوں میں بجلی اور حرارتی سہولیات بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

روس نے ان حملوں کے بعد سخت ردعمل کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ جوابی کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور یہ طے ہے کہ جواب کب اور کہاں دیا جائے گا۔ ساتھ ہی ماسکو نے امن مذاکرات کے حوالے سے اپنے مؤقف پر نظرثانی کے اشارے دیے ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین تنازع کے درمیان 28 نکاتی امن منصوبہ تیار کیا ہے۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا کہ ملک کو اب خودمختاری اور حمایت کے درمیان مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی۔ ٹرمپ نے یوکرین کو ٹوماہاک میزائلیں دینے کے بارے میں اپنے سابقہ ​​موقف کو پلٹتے ہوئے کہا کہ وہ چاہیں گے کہ انہیں ٹوماہاک میزائلوں کی ضرورت ہی نہ پڑے۔