یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیر کو ولادیمیر پوتن کو روس کے ساتھ تین سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے تمام جنگی قیدیوں کے تبادلے کی تجویز پیش کی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق روس کو تمام یوکرینی فوجیوں اور شہریوں کو رہا کرنا ہوگا۔زیلنسکی نے روس یوکرین جنگ کی تیسری برسی کے موقع پر کیف میں ایک سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بدلے میں یوکرین تمام روسی جنگی قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔ جنگ کو ختم کرنے کے لیے یہ ایک موزوں طریقہ ہو گا۔
اکتوبر 2024 میں، روس اور یوکرین نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ثالثی کے تحت 95 جنگی قیدیوں کو رہا کیاتھا۔ یوکرینی پارلیمنٹ کے انسانی حقوق کے کمشنر دیمیٹرو لوبینٹس نے کہا کہ 2022 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ 58 واں موقع ہے کہ دونوں ممالک نے قیدیوں کا تبادلہ کیا۔ اس سے قبل دونوں ممالک نے ستمبر میں ایک دوسرے کے 103-103 قیدیوں کو رہا کیا تھا۔ دریں اثنا، زیلنسکی نے جنگ کی تیسری برسی کے موقع پر روسی جارحیت کے مقابلے میں یوکرین کی مزاحمت اور بہادری کی تعریف کی۔ آپ کو بتا دیں کہ روس نے 24 فروری 2022 کو یوکرین پر حملہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ جاری ہے۔
ایک روز قبل ولادیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ اگر ان کے ملک کو نیٹو کی رکنیت دی جاتی ہے تو وہ یوکرین کے صدر کا عہدہ فوری طور پر چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔ کیف میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا تھاکہ اگر میرے ایسا کرنے سے یوکرین میں امن قائم ہوتا ہے، اگر آپ واقعی چاہتے ہیں کہ میں اپنا عہدہ چھوڑ دوں، تو میں اس کے لیے تیار ہوں۔ میں یوکرین کے نیٹو رکن بننے کے بدلے میں صدر کے عہدے سے فوری طور پر مستعفی ہونے کو تیار ہوں۔
زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر بھی زور دیا کہ وہ یوکرین کی صورتحال کو سمجھیں اور روسی جارحیت کے خلاف اپنے ملک کو “سیکیورٹی گارنٹی” فراہم کریں۔ زیلنسکی نے یہ بھی کہا کہ وہ ٹرمپ کو یوکرین کے شراکت دار اور کیف اور ماسکو کے درمیان ثالث کے طور پر دیکھنا چاہیں گے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق یوکرائنی صدر نے پریس کانفرنس میں کہاکہ ‘میں ٹرمپ کے ساتھ ایک دوسرے کے بارے میں بہت کچھ سمجھنا چاہتا ہوں۔ ہمیں امریکہ سے سیکورٹی گارنٹی کی اشد ضرورت ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



