روس نے ڈرون حملے کی مدد سے چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ کے چوتھے پاور یونٹ کو نشانہ بنایا ہے۔ روسی ڈرونز نے چرنوبل کے ناکارہ جوہری پاور پلانٹ پر حملہ کیا، جو عالمی جوہری سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے خود اس کی اطلاع دی ہے واضح رہے کہ ماہرین روس کے اس حملے کو عالمی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ چرنوبل میں بنایا گیا یہ خصوصی یونٹ یوکرین، یورپ، امریکہ اور دیگر ممالک کی مدد سے تعمیر کیا گیا تھا، جس کا مقصد تابکاری کے خطرات سے بچنا تھا۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے اس واقعے کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے روس پر الزام لگایا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کر رہا ہے اور جوہری مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے جو کہ پوری دنیا کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ زیلنسکی نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے حملے عالمی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور فوری ردعمل کی ضرورت ہے۔
آگ پر قابو پالیا گیا
صدر زیلنسکی کی تصدیق کے بعد فائر سیفٹی حکام نے بتایا کہ چرنوبل پلانٹ پر ڈرون حملے کے بعد لگنے والی آگ پر مکمل طور پر قابو پالیا گیا ہے۔ تاہم اس واقعے نے ایک بار پھر دنیا کو چرنوبل جیسے حساس مقامات پر خطرات سے آگاہ کر دیا ہے۔
Last night, a Russian attack drone with a high-explosive warhead struck the shelter protecting the world from radiation at the destroyed 4th power unit of the Chornobyl Nuclear Power Plant.
This shelter was built by Ukraine together with other countries of Europe and the world,… pic.twitter.com/mLTGeDYgPT
— Volodymyr Zelenskyy / Володимир Зеленський (@ZelenskyyUa) February 14, 2025
تابکاری کا کوئی خطرہ نہیں
روسی ڈرون حملے کے بعد چرنوبل پلانٹ میں تابکاری کی سطح کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیقات کے بعد ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ فی الحال تابکاری کی غیر معمولی سطح کا پتہ نہیں چلا ہے۔ پلانٹ کے اہلکار صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ آئندہ کسی بھی خطرے سے نمٹا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


