Bharat Express DD Free Dish

Vladimir Putin

نئی دہلی: روس کے صدر ولادیمیر پوتن دوروزہ دورے پربھارت پہنچ گئے ہیں۔ دہلی کے پالم ہوائی اڈے پروزیراعظم نریندرمودی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’مجھے اپنے دوست صدر پوتن کا دہلی میں استقبال کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے۔ میں آج شام اور کل ہماری ملاقاتوں کا منتظر ہوں‘۔

روس کے صدرولادیمیرپتن دوروزہ دورے پربھارت پہنچ گئے۔ دہلی کے پالم ہوائی اڈے پروزیراعظم نریندرمودی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں لیڈران آج اپنی 23ویں دوطرفہ میٹنگ میں دفاعی تعاون، تجارتی سلامتی اور ماڈیولرری ایکٹر پروجیکٹ پرتبادلہ خیال کریں گے۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن دو روزہ دورے پر 4 دسمبر کی شام تقریباً 7 بجے بھارت پہنچیں گے۔ دہلی میں روسی صدر کے استقبال کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ پوتن بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے، جس پر عالمی سطح پر تمام توجہ مرکوز ہے۔

ہندوستان-روس "خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری" دنیا میں منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ گزشتہ پچیس برسوں سے مسلسل ہونے والی سربراہی ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور کھلے مذاکرات کی بنیاد کو مضبوط کرتی رہی ہیں۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن 4 دسمبر کو دو روزہ دورے پر بھارت پہنچ رہے ہیں۔ یہ ان کا گزشتہ چار سال میں پہلا بھارتی دورہ ہے، جو روس-یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد انتہائی اہم سفارتی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ دہلی میں پوتن کے استقبال اور سکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے بھارت پر حالیہ برسوں میں روس سے سستے تیل کی خریداری کے خلاف سخت موقف اختیار کیا گیا تھا۔ سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھارت پر 50 فیصد ٹیریف عائد کرتے ہوئے واضح بیان دیا تھا کہ روس کے ساتھ تعلقات امریکہ کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

ایس جے شنکر نے کہا، یہ یقینی طور پر ہماری خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید تقویت اور مادہ فراہم کریں گے۔جے شنکر نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان روس یوکرین تنازعہ کو ختم کرنے کی حالیہ کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

بھارت اور روس کے تعلقات کی تاریخ نصف صدی سے بھی زیادہ پرانی اور اعتماد پر مبنی ہے۔ دونوں ممالک نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ دفاعی اور تجارتی میدانوں میں بھی ایک دوسرے کے قریبی شراکت دار رہے ہیں۔ اسی دوستی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے آئندہ ماہ بھارت کے مجوزہ دورے کی تیاریاں کریملن نے باضابطہ طور پر شروع کر دی ہیں۔

امریکی صدر نے چین کے بڑھتے ہوئے جوہری ہتھیاروں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین تیزی سے نئے ہتھیار تیار کر رہا ہے اور وہ پانچ سال کے اندر روس اور امریکہ کے قریب جاسکتا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ان کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات کی منسوخی کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے۔ ایک انٹرویو میں کریملن کے ترجمان نے کہا کہ روسی صدر اور ٹرمپ کے درمیان جلد ملاقات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔