Bharat Express DD Free Dish

Vladimir Putin

ستمبر 2000 میں روس اور امریکہ نے ایک خصوصی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت دونوں ممالک نے 34 ٹن ہتھیار استعمال کرنے والے پلوٹونیم کو تباہ کرنا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اکتوبر 2016 میں ماسکو نے یہ معاہدہ منسوخ کر دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس پر لگائی جانے والی اب تک کی سب سے بڑی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے ان خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ولادیمیر پوتین یوکرین امن مذاکرات میں غیر مخلص ہیں۔

ادھر یورپی یونین نے بھی روس پر نئی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں 2027 تک روس سے گیس کی درآمد پر پابندی، روسی آئل ٹینکرز کو بلیک لسٹ کرنا اور سفارت کاروں کے سفر پر پابندیاں شامل ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی۔ ٹرمپ نے یوکرین کو ٹوماہاک میزائلیں دینے کے بارے میں اپنے سابقہ ​​موقف کو پلٹتے ہوئے کہا کہ وہ چاہیں گے کہ انہیں ٹوماہاک میزائلوں کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

پی ایم مودی نے روسی صدرولادیمیرپتن نے ٹیلیفونک بات چیت میں ہندوستان-روس اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہارکیا۔ روس، بھارت کا سب سے بڑا دفاعی سپلائربنا ہوا ہے اورحالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی ویلیوم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف صدر پتن کے دورے سے قبل بھارت آئیں گے۔ سربراہی اجلاس کی تیاری اور اہم دوطرفہ معاملات پر گفتگو کا امکان۔

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق، روس بھارت کے لیے ایک دیرینہ اور آزمودہ شراکت دار رہا ہے۔ بھارت-روس تعلقات کی ترقی بھارت کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون رہا ہے۔ اکتوبر 2000 میں (صدر پوتن کے دورے کے دوران) ’بھارت-روس اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کے اعلان‘ پر دستخط ہونے کے بعد سے یہ تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔

بنجمن نیتن یاہو نے کہا:پی ایم مودی، میرے عزیز دوست نریندر، میں آپ کو سالگرہ کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں جلد ہی آپ سے ملاقات کروں گا، کیونکہ ہمیں اپنی شراکت داری اور دوستی کو نئی بلندیوں تک لے جانا ہے۔ سالگرہ مبارک ہو، میرے دوست۔

پی ایم کے طور پر دوسری سب سے طویل بلاتعطل دوڑ کے باوجود، ان کی مقبولیت بلند ہے۔ جولائی میں، وہ 75 فیصد کے ساتھ عالمی رہنماؤں کی 'ڈیموکریٹک لیڈر اپروول ریٹنگ' کی فہرست میں سرفہرست رہے۔ گزشتہ 11 سالوں کے دوران، انہوں نے قومی اور بین الاقوامی فورمز پر ملک کی دلیری سے قیادت کی۔

ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں پی ایم مودی کو اپنا دوست کہا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مودی کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔ اس دوران انہوں نے پی ایم مودی کی تعریف کرتے ہوئے انہیں عظیم لیڈر قرار دیا۔