Urdu Conclave 2026

Just two friends in a car: ولادیمیر پوتن کا بڑا انکشاف، کارپول میری تجویز تھی،  پی ایم مودی جی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھنا میرے لیے خاص لمحہ تھا

ولادیمیر پوتن کا یہ دورہ 2021 کے بعد پہلی بھارت دورہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت—روس اسٹریٹجک شراکت داری کے 25 سال اور 23واں سالانہ سربراہی اجلاس بھی اسی موقع پر ہو رہا ہے، جو اسے مزید اہمیت دیتا ہے۔

ھارت کی سرزمین پر قدم رکھنے سے صرف چند گھنٹے پہلے روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کریملن کے کیتھرین ہال میں ایک ایسا خصوصی انٹرویو دیا ،جس نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ پہلی بار انہوں نے دو بھارتی خاتون صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نہ صرف بھارت کے بارے میں اپنے ذاتی جذبات شیئر کیے بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اپنے تعلقات پر بھی کھل کر گفتگو کی۔ یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت—روس تعلقات ایک نئے موڑ پر ہیں اور عالمی سیاست تیزی سے بدل رہی ہے۔

اس گفتگو کے دوران ولادیمیر پوتن نے وہ حقیقت بھی بتا دی جو شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) سمٹ کے بعد مودی اور ولادیمیر پوتن کی مشترکہ کار رائیڈ کے بارے میں برسوں سے زیرِ بحث تھی۔ تیانجن میں ہونے والی سمٹ کے بعد دونوں رہنماؤں کو ایک ہی Aurus Senate گاڑی میں سفر کرتے دیکھا گیا تھا، جو ایک تاریخی لمحہ بن گیا تھا۔

ولادیمیر پوتن نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس کارپول کے پیچھے کوئی سفارتی ضابطہ یا پہلے سے طے شدہ پروگرام نہیں تھا۔ “یہ میری طرف سے تجویز تھی، ہم دونوں کے درمیان اعتماد اور ذاتی قربت کا اظہار تھا”، انہوں نے کہا۔ ان کے مطابق وہ دونوں گاڑی میں بیٹھتے ہی بات چیت میں مصروف ہو گئے اور یہ گفتگو منزل پر پہنچنے کے بعد بھی 45 منٹ تک جاری رہی۔

نریندر مودی کی پوسٹ، ولادیمیر پوتن کا انتظار اور طویل گفتگو

SCO سمٹ سے واپسی کے بعد وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پر ولادیمیر پوتن کے ساتھ اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ان کے ساتھ گفتگو ہمیشہ بامعنی ہوتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس دن پیوٹن خود تقریباً دس منٹ تک وزیراعظم مودی کا انتظار کرتے رہے۔ دونوں رہنما سمٹ وینیو سے ہوٹل تک ایک ساتھ گئے اور وہاں پہنچ کر بھی آدھے گھنٹے سے زائد غیر رسمی گفتگو جاری رکھی۔ اس دوران عالمی سیاست میں بھارت—امریکہ تعلقات میں ہلکی کشیدگی ضرور تھی، مگر بھارت—روس دوستی میں کوئی کمی نظر نہیں آئی۔

عالمی تناؤ کے درمیان یہ پیغام کیوں اہم؟

حال ہی میں امریکہ نے روسی خام تیل کی خریداری پر بھارت کو تنبیہات اور اضافی ٹیکسوں کا سامنا کرایا، جس سے دونوں ملکوں کے معاشی تعلقات میں بے چینی پیدا ہوئی۔ لیکن ولادیمیر پوتن اور مودی کی یہ دوستی عالمی سیاست کو یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ بھارت اپنی خارجہ پالیسی دباؤ میں آکر نہیں چلاتا۔ روس کے ساتھ بھارت کا رشتہ نہ صرف اسٹریٹجک سطح پر مضبوط ہے بلکہ قیادت کے درمیان ذاتی اعتماد کی بنیاد پر بھی قائم ہے۔

یہ دورہ کیوں تاریخی ہے؟

ولادیمیر پوتن کا یہ دورہ 2021 کے بعد پہلی بھارت دورہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت—روس اسٹریٹجک شراکت داری کے 25 سال اور 23واں سالانہ سربراہی اجلاس بھی اسی موقع پر ہو رہا ہے، جو اسے مزید اہمیت دیتا ہے۔

ولادیمیر پوتن کا مکمل شیڈول

بھارتی دارالحکومت دہلی نے ولادیمیر پوتن کا غیرمعمولی احترام کے ساتھ استقبال کیا۔ وزیر اعظم مودی نے پروٹوکول سے ہٹ کر خود ایئرپورٹ جا کر ان کا استقبال کیا۔ بعد ازاں وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ان کے اعزاز میں خصوصی عشایئے کا اہتمام کیا گیا۔

آج دونوں ممالک کے نمائندہ وفود آمنے سامنے ملاقاتیں کریں گے، جن میں دفاعی تعاون، ٹیکنالوجی، توانائی اور تجارت سے متعلق کئی اہم پالیسی معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔ دن کے اختتام پر دونوں رہنما مشترکہ بیان بھی جاری کریں گے۔یہ دورہ نہ صرف جیو پولیٹکس میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، بلکہ یہ بھارت—روس تعلقات کے مستقبل کے لیے بھی نئے امکانات کا دروازہ کھولتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read