روس کے صدر ولادیمیر پوتن 4 دسمبر کو دو روزہ دورے پر بھارت پہنچ رہے ہیں۔ یہ ان کا گزشتہ چار سال میں پہلا بھارتی دورہ ہے، جو روس-یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد انتہائی اہم سفارتی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ دہلی میں پوتن کے استقبال اور سکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ بھارتی حکومت اس دورے کو خصوصاً اسٹریٹیجک اور اقتصادی نقطۂ نظر سے اہم قرار دے رہی ہے۔ پوتن کا یہ 30 گھنٹے کا دورہ 4 دسمبر کی شام سے شروع ہو کر 5 دسمبر کی رات تک جاری رہے گا۔ دہلی پہنچنے پر وزیرِاعظم نریندر مودی صدر پوتن کا استقبال کریں گے، جس کے بعد شام 7 بجے ایک خصوصی نجی عشائیہ رکھا گیا ہے، جہاں دونوں رہنما غیر رسمی گفتگو بھی کریں گے۔
23ویں سالانہ بھارت-روس سربراہ اجلاس میں اہم فیصلوں کا امکان
5 دسمبر کی صبح صدر پوتن کو گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا، جس کے بعد وہ راج گھاٹ پہنچ کر مہاتما گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔ اسی روز صبح 11 بجے حیدرآباد ہاؤس میں 23واں سالانہ بھارت-روس دو طرفہ سربراہ اجلاس منعقد ہوگا۔ اس میٹنگ میں دفاع، توانائی، تجارت، ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق اور تزویراتی تعاون جیسے کلیدی شعبوں پر جامع بات چیت کی جائے گی۔ اجلاس کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ بیان جاری کیا جائے گا جس میں مستقبل کی شراکت داری کے اہداف اور طے پانے والے معاہدوں کی تفصیل شامل ہوگی۔ دونوں ملکوں کا زور اس بات پر ہے کہ بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل ماحول میں بھارت اور روس باہمی تعاون کو مزید مضبوط کریں۔
معاشی تعلقات اور سرمایہ کاری پر خصوصی توجہ
روایتی دفاعی تعلقات کے ساتھ ساتھ اس بار دونوں ملکوں کے درمیان معاشی تعاون پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ روس کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعلقات پہلے سے مضبوط ہیں، تاہم اس ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نئے امکانات پر بھی بات چیت ہوگی۔ پوتن اور مودی شام 4 بجے بھارت منڈپم میں انڈیا-روس بزنس فورم سے خطاب کریں گے۔ یہ فورم دونوں ممالک کے کاروباری طبقے کو نئی شراکت داریوں اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے گا۔ اسی رات بھارت کی صدر دروپدی مرمو روسی صدر کے اعزاز میں عشائیہ دیں گی، جس میں اعلیٰ سطحی حکومتی شخصیات شرکت کریں گی۔ عشائیہ کے بعد پوتن بھارت سے روانہ ہو جائیں گے۔
بھارت-روس آر ای ایل او ایس معاہدے کو منظوری
پوتن کے دورے سے قبل روسی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں (ڈوما) نے بھارت-روس ریسپرکل ایکسچینج آف لاجسٹک سپورٹ (آر ای ایل او ایس) معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ملک ایک دوسرے کے فوجی اڈے، بندرگاہیں، سپلائی پوائنٹس، ائیر فیلڈز اور لاجسٹک سہولیات استعمال کر سکیں گے۔ اس عمل کے اخراجات بھی دونوں ممالک مشترکہ طور پر برداشت کریں گے۔ یہ معاہدہ دفاعی تعاون کو نئی رفتار دینے اور دونوں ملکوں کے اسٹریٹیجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ایک بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


