Bharat Express DD Free Dish

Vishwa Hindu Parishad

مندر کے پجاریوں پرخواتین کے ساتھ زیادتی سے متعلق مبینہ بیان کی وجہ سے تنازعہ بڑھ گیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کی خاتون وکیل امیتا سچدیونے نئی دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے میں شکایت دے کربیان کی جانچ کرنے اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مولانا جرجیس انصاری کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں مبینہ طور پر انہوں نے کہا تھا کہ شری کرشن مسلمان تھے اور پانچ وقت کی نماز ادا کرتے تھے۔ اس بیان کے منظرعام پر آنے کے بعد مختلف ہندو تنظیموں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

ایس پی لیڈر نے کہا کہ ہر بار تہواروں کے دوران ایسے سیاسی جھگڑے ہوتے ہیں اور یہ ایسے جھگڑے ہیں جو لوگوں کے درمیان دوریاں پیدا کررہے ہیں۔ یہ لوگ نہیں جانتے کہ یہ جتنی دوریاں پیدا کریں گے ہمارا ملک اتنا ہی کمزور ہوتا جائے گا۔

مہاراشٹر میں اورنگ زیب کی قبرسے متعلق تنازعہ چل رہا ہے۔ اس درمیان دہلی میں وشوہندو پریشد کے ایک وفد نے ہمایوں کے مقبرہ کا جائزہ لیا۔ حالانکہ ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ اس مقصد دہلی کی تاریخی مقام کا جائزہ لینا ہے۔

جب ڈویژن بنچ نے پوچھا کہ کیا عرضی گزار اسٹیج کیریج پرمٹ یا کنٹریکٹ کیریج پرمٹ مانگ رہا ہے، چتامبریش نے کہا کہ تنظیم صرف مفت خدمات فراہم کرنا چاہتی ہے، جس کی حکومت اجازت نہیں دے رہی ہے۔

مبینہ گئورکشک مونومانیسر کی رہائی کے مطالبہ سے متعلق ہندو تنظیموں نے سڑک پرخوب ہنگامہ بھی کیا اورسائبرسٹی گروگرام میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کرکے ڈی سی کو میمورنڈم سونپا۔ اس دوران تمام ہندو تنظیموں کے سینکڑوں کارکنان نے مونو مانیسر کو ضمانت دیئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہریانہ کے نوح میں گزشتہ 31 جولائی کو وشو ہندو پریشد کی یاترا کے دوران فرقہ وارانہ تشدد ہوا تھا۔ اس تشدد میں دو ہوم گارڈ جوان اورایک مسجد کے نوجوان امام سمیت 6 افراد کی جان چلی گئی تھی۔

ہریانہ کے نوح تشدد کا ملزم اورمسلمانوں کو مشتعل کرنےوالا بٹو بجرنگی پولیس حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ اس پرالزام ہے کہ اس نے نوح تشدد سے پہلے خواتین پولیس اہلکاروں سے بھی بدتمیزی کی تھی۔

ہریانہ کے نوح تشدد کے بعد بٹو بجرنگی کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ اس کے بعد وشوہندو پریشد نے ٹوئٹ کرکے بتایا ہے کہ بجرنگ دل سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ جانئے آخرکون ہے یہ بٹو بجرنگی۔

جج نے سماعت کے دوران کہا کہ وی ایچ پی کے پروگراموں پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ریاستوں سے صرف اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہا گیا ہے کہ ان میں اشتعال انگیز تقریریں نہ ہوں۔ ان پروگراموں کی وجہ سے تشدد نہ پھیلے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو پولیس کو اس پر ایکشن لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔