Bharat Express DD Free Dish

Tejashwi Yadav

تیجسوی یادو کی جانب سے بہار اسمبلی میں ارکانِ اسمبلی کو تنخواہ نہ ملنے کا مسئلہ اٹھانے کے بعد سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ تیجسوی نے ریاست کی معاشی صورتحال اور سرکاری خزانے میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔

انڈین نیشنل کانگریس، ترنمول کانگریس اور لیفٹ فرنٹ کے درمیان سب سے واضح ٹکراؤ مغربی بنگال میں دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں 294 نشستوں پر ہونے والے اسمبلی انتخابات میں تینوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف میدان میں ہیں۔ انتخابی جلسوں میں ایک دوسرے پر سخت سیاسی حملے کیے جا رہے ہیں، جس سے اتحاد کی کمزوریاں نمایاں ہو رہی ہیں۔

بہار اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے لیڈر تیجسوی یادو نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایل پی جی گیس سلنڈر اور پٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے صورتحال مزید خراب ہونے والی ہے۔ پٹنہ سے سوربھ کمار کی رپورٹ۔

ای ڈی کے مطابق، جب لالو پرساد یادو ریلوے وزیر تھے، تب ‘گروپ ڈی’ کی نوکریوں کے بدلے لوگوں سے زمینیں لی گئیں۔ ان زمینوں کو اکثر براہ راست لالو خاندان کے بجائے ’اے کے انفوسسٹمز‘ کمپنی کے نام پر لیا گیا، جو امت کاتیال کی ملکیت ہے اور انہیں لالو اور تیجسوی یادو کا قریبی ساتھی مانا جاتا ہے۔

پپو یادو نے کہا کہ تیجسوی یادو کو سیاسی حالات کا علم تھا، مگر نہ تو انہوں نے کوئی میٹنگ بلائی اور نہ ہی کانگریس کے صوبائی صدر اور اہم لیڈران سے مشاورت کی۔ انہوں نے اسے فرض کی غفلت قرار دیا اور زور دیا کہ انتخابات سے پہلے ایک اجتماعی حکمت عملی بنائی جانی چاہیے تھی۔

بہار راجیہ سبھا انتخابات کے درمیان کانگریس کے تین ایم ایل اے کے رابطے سے باہر ہونے کی خبر سامنے آئی ہے، جس سے مہاگٹھ بندھن کی حکمتِ عملی پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ ادھر اے آئی ایم آئی ایم نے حمایت کا اعلان کیا ہے، لیکن این ڈی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ پانچوں نشستیں ان کے کھاتے میں جائیں گی۔

آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے بہار کو “منفرد ریاست” قرار دیتے ہوئے این ڈی اے حکومت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے غربت، بے روزگاری اور نقل مکانی جیسے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے حکومت کی جوابدہی پر سوال اٹھائے۔

بہارمیں راجیہ سبھا کی پانچ سیٹوں پرمقابلہ ہے۔ 6 امیدوار میدان میں ہیں، پانچ این ڈی اے اورایک آرجے ڈی سے۔ این ڈی اے کے 4 امیدواروں کی جیت یقینی ہے۔ پانچویں سیٹ سے متعلق معاملہ پھنسا ہوا ہے۔ آر جے ڈی نے بھی اپنی پوری طاقت لگا دی ہے، اپنی امیدوں کواے آئی ایم آئی ایم پرلگا دیا ہے، جس کے اسمبلی میں پانچ اراکین اسمبلی ہیں۔

بہار اسمبلی میں این ڈی اے کے 202 ارکان ہیں، لیکن پانچوں راجیہ سبھا کی نشستیں جیتنے کے لیے اسے تین اضافی ووٹ درکار ہیں۔ مہاگٹھ بندھن کے لیے ایک نشست جیتنے کے لیے چھ ووٹ درکار ہیں۔ ایسے میں اے آئی ایم آئی ایم اور بسپا کی حمایت کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ ان کے ووٹ کسی ایک نشست کے نتائج کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے ریاستی صدراخترالایمان کا کہنا ہے کہ دہلی سے آنے کے بعد تیجسوی یادو نے بات نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس سلسلے میں بات کریں گے۔ اس طرح سے تیجسوی یادو کو جھٹکا لگ سکتا ہے۔