Bharat Express DD Free Dish

Tejashwi Yadav

بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی ورکنگ صدر تیجسوی یادو نے طلبہ تحریک کے دوران گرفتار کیے گئے طلبہ کی رہائی اور ان کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو سخت وارننگ دی ہے۔

راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سینئر ترجمان اورلالو پرساد یادو کے قریبی ساتھی مرتنجے تیواری نے جمعرات (16 جولائی 2026) کو پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ سال 2014 سے آر جے ڈی کے میڈیا انچارج اورترجمان کی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔ ان کا شمار پارٹی میں برہمن طبقے …

راہل گاندھی نے کہا کہ وہ 2004 سے رکن پارلیمان ہیں اور کانگریس کا تنظیمی ڈھانچہ دیگر سیاسی جماعتوں سے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لاکھوں کانگریسی کارکنوں کو جانتے ہیں جو ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔

تیجسوی یادو نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو غیر ضروری سیاسی موضوعات پر توجہ دینے کے بجائے بہار کی بگڑتی ہوئی مالی حالت کے بارے میں عوام سے براہِ راست گفتگو کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے عوام مالی بحران سے متعلق تشویش اور خدشات کا شکار ہیں، اس لیے حکومت پر لازم ہے کہ وہ صورتِ حال کی وضاحت کرے اور عوام کو اعتماد میں لے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم مودی کی تعریف کیے جانے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے رام کرپال یادو نے کہا کہ وہ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ انہوں نے وزیراعظم مودی کی قیادت اور صلاحیتوں کو کھلے دل سے سراہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 12 برسوں میں مودی نے جس انداز میں ملک کی قیادت کی ہے، اس سے عالمی سطح پر بھارت کی ایک الگ شناخت قائم ہوئی ہے۔

تیجسوی یادو نے دعویٰ کیا کہ آنے والے دنوں میں عوام کو شدید مہنگائی جھیلنی پڑے گی، نجی شعبے میں نوکریاں کم ہوں گی، مہاجر مزدور واپس لوٹیں گے اور چھوٹے کاروبار متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں غربت اور بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔

تیجسوی یادو نے مختلف مجرمانہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کو براہ راست نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا محکمہ داخلہ خود وزیر اعلیٰ کے پاس ہونے کے باوجود مجرموں میں قانون کا کوئی خوف نظر نہیں آ رہا۔ ان کے مطابق بہار میں خواتین کی سلامتی سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے، مگر حکومت صرف دعوے کرنے میں مصروف ہے۔

آر جے ڈی نے اپنی پوسٹ میں مرکزی ایجنسیوں جیسے ای ڈی، آئی ٹی، سی بی آئی اور الیکشن کمیشن کا بھی ذکر کیا اور حکومت پر سیاسی فائدے کے لیے ان اداروں کے استعمال کا الزام لگایا۔ پارٹی نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ “ان اداروں کے افسروں کے خرچے،

ریاست کے قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے کہا کہ خواتین کو نہ صرف مالی ترغیبات دی گئیں بلکہ انہیں ڈرایا دھمکایا بھی گیا۔ تیجسوی کے مطابق، ووٹنگ مراکز پر کیمروں کا حوالہ دے کر خواتین کو کہا گیا کہ اگر انہوں نے مخصوص نشان پر ووٹ نہ دیا تو دی گئی رقم واپس لے لی جائے گی۔ انہوں نے اس الزام کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی حرکتیں آزاد اور شفاف انتخابات کے اصولوں کے خلاف ہیں۔

تیجسوی یادو نے وزیر اعلیٰ کی عمر کو لے کر سوال اٹھایا اور کہا کہ مختلف حلف ناموں میں درج عمر میں فرق ہے، آخر کس کو درست مانا جائے۔ ان کی تقریر کے دوران حکمراں جماعت کے ارکان نے بار بار مداخلت کی، جس کے باعث ایوان میں شور شرابہ بھی دیکھنے کو ملا۔