Bharat Express DD Free Dish

Tejashwi Yadav

تیجسوی یادو نے دعویٰ کیا کہ آنے والے دنوں میں عوام کو شدید مہنگائی جھیلنی پڑے گی، نجی شعبے میں نوکریاں کم ہوں گی، مہاجر مزدور واپس لوٹیں گے اور چھوٹے کاروبار متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں غربت اور بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔

تیجسوی یادو نے مختلف مجرمانہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کو براہ راست نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا محکمہ داخلہ خود وزیر اعلیٰ کے پاس ہونے کے باوجود مجرموں میں قانون کا کوئی خوف نظر نہیں آ رہا۔ ان کے مطابق بہار میں خواتین کی سلامتی سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے، مگر حکومت صرف دعوے کرنے میں مصروف ہے۔

آر جے ڈی نے اپنی پوسٹ میں مرکزی ایجنسیوں جیسے ای ڈی، آئی ٹی، سی بی آئی اور الیکشن کمیشن کا بھی ذکر کیا اور حکومت پر سیاسی فائدے کے لیے ان اداروں کے استعمال کا الزام لگایا۔ پارٹی نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ “ان اداروں کے افسروں کے خرچے،

ریاست کے قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے کہا کہ خواتین کو نہ صرف مالی ترغیبات دی گئیں بلکہ انہیں ڈرایا دھمکایا بھی گیا۔ تیجسوی کے مطابق، ووٹنگ مراکز پر کیمروں کا حوالہ دے کر خواتین کو کہا گیا کہ اگر انہوں نے مخصوص نشان پر ووٹ نہ دیا تو دی گئی رقم واپس لے لی جائے گی۔ انہوں نے اس الزام کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی حرکتیں آزاد اور شفاف انتخابات کے اصولوں کے خلاف ہیں۔

تیجسوی یادو نے وزیر اعلیٰ کی عمر کو لے کر سوال اٹھایا اور کہا کہ مختلف حلف ناموں میں درج عمر میں فرق ہے، آخر کس کو درست مانا جائے۔ ان کی تقریر کے دوران حکمراں جماعت کے ارکان نے بار بار مداخلت کی، جس کے باعث ایوان میں شور شرابہ بھی دیکھنے کو ملا۔

تیجسوی یادو کی جانب سے بہار اسمبلی میں ارکانِ اسمبلی کو تنخواہ نہ ملنے کا مسئلہ اٹھانے کے بعد سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ تیجسوی نے ریاست کی معاشی صورتحال اور سرکاری خزانے میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔

انڈین نیشنل کانگریس، ترنمول کانگریس اور لیفٹ فرنٹ کے درمیان سب سے واضح ٹکراؤ مغربی بنگال میں دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں 294 نشستوں پر ہونے والے اسمبلی انتخابات میں تینوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف میدان میں ہیں۔ انتخابی جلسوں میں ایک دوسرے پر سخت سیاسی حملے کیے جا رہے ہیں، جس سے اتحاد کی کمزوریاں نمایاں ہو رہی ہیں۔

بہار اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے لیڈر تیجسوی یادو نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایل پی جی گیس سلنڈر اور پٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے صورتحال مزید خراب ہونے والی ہے۔ پٹنہ سے سوربھ کمار کی رپورٹ۔

ای ڈی کے مطابق، جب لالو پرساد یادو ریلوے وزیر تھے، تب ‘گروپ ڈی’ کی نوکریوں کے بدلے لوگوں سے زمینیں لی گئیں۔ ان زمینوں کو اکثر براہ راست لالو خاندان کے بجائے ’اے کے انفوسسٹمز‘ کمپنی کے نام پر لیا گیا، جو امت کاتیال کی ملکیت ہے اور انہیں لالو اور تیجسوی یادو کا قریبی ساتھی مانا جاتا ہے۔

پپو یادو نے کہا کہ تیجسوی یادو کو سیاسی حالات کا علم تھا، مگر نہ تو انہوں نے کوئی میٹنگ بلائی اور نہ ہی کانگریس کے صوبائی صدر اور اہم لیڈران سے مشاورت کی۔ انہوں نے اسے فرض کی غفلت قرار دیا اور زور دیا کہ انتخابات سے پہلے ایک اجتماعی حکمت عملی بنائی جانی چاہیے تھی۔