Bharat Express DD Free Dish

Tejashwi Yadav

روہنی آچاریہ نے کہا کہ موجودہ وقت کی کڑوی، تشویشناک اور افسوسناک حقیقت یہی ہے کہ آج عوام کے حقوق کی لڑائی لڑنے کے لیے جانی جانے والی، عوام کی پارٹی کی اصلی کمان فاشسٹ مخالفین کے ذریعہ بھیجے گئے ویسے گھسپیٹھیوں اور سازش کاروں کے ہاتھوں میں ہے، جنہیں لالوواد کو تہس نہس کرنے کے ٹاسک کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔

راشٹریہ جنتا دل (آرجے ڈی) کی نیشنل ایگزیکٹیوکی میٹنگ کے دوران آر جے ڈی کے قومی جنرل سکریٹری بھولا یادو نے تیجسوی یادوکو قومی ایگزیکٹیو صدر بنانے کی تجویز پیش کی۔

آرجے ڈی نیشنل ایگزیکٹیو کی اتوار (25 جنوری) کو ہونے والی میٹنگ میں بہت سے اہم فیصلے لئے جائیں گے۔ تیجسوی یادو کوایک بڑی ذمہ داری مل سکتی ہے اوراس کا باضابطہ اعلان لالو پرساد یادو کرسکتے ہیں۔

بہارمیں اپوزیشن لیڈراورریاست کے سابق نائب وزیراعلیٰ تیجسوی یادوکی سیکورٹی کوگھٹا کروائی کیٹیگری میں کردیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ان کے پاس زیڈ کیٹیگری کی سیکیورٹی تھی۔

آئی آر سی ٹی سی گھوٹالہ اور دیگر متعلقہ مقدمات میں ملزم بہار کی سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی سمیت دیگر کو راؤز ایونیو کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے رابڑی دیوی اور دیگر ملزمان کی جانب سے دائر کی گئی ٹرانسفر عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ان کے خلاف جاری مقدمات بدستور موجودہ خصوصی جج کی عدالت میں ہی چلتے رہیں گے۔

نوکری کے لیے زمین کا گھوٹالہ 2004 سے 2009 کے درمیان اس وقت ہوا جب لالو پرساد یادو ریلوے کے وزیر تھے۔ سی بی آئی کا الزام ہے کہ اس عرصے کے دوران لالو یادو نے پٹنہ کے 12 افراد کو خفیہ طور پر گروپ ڈی کی نوکریاں دیں

نتیش کمار کے حلف لیتے ہی سوشل میڈیا پر میم ورلڈ ایکٹیو ہوگیا ہے۔ صارفین نے نتیش اور تیجسوی کے بارے میں مزےدار میم شیئر کیے، جس میں ’’میں تو پرمانینٹ ہوں سر‘‘ سب سے زیادہ ٹرینڈنگ میں ہے۔

لال گنج سے آر جے ڈی امیدوار شیوانی شکلا نے بھی اپنے حلقے کے نتائج پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے ایک آزاد امیدوار کو مبینہ طور پر ایک بھی ووٹ نہ ملنے کی مثال دیتے ہوئے اسے انتہائی تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ ایسے میں سوال تو اٹھیں گے۔ آر جے ڈی قیادت آنے والے دنوں میں دوبارہ میٹنگ کرکے اپنے اگلے قدم کا فیصلہ کرے گی، جس میں الیکشن کمیشن یا عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا امکان بھی شامل ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات میں مہاگٹھ بندھن کو سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ آر جے ڈی کو محض 25 نشستوں پر کامیابی ملی، کانگریس کو 6 نشستیں ملیں، سی پی آئی (مالے) لبریشن کو 2 نشستیں، جبکہ انڈین انکلوسیو پارٹی اور سی پی آئی ایم کو 1-1 نشست ملی۔ وکاس شیل انسان پارٹی کا مکمل صفایا ہو گیا۔

تیجسوی یادد کی قیادت پرسوال اٹھاتے ہوئے  سنجے سنگھ یادو نے کہا کہ ان کا  اس طرح کا برتاؤ نہ تو پارٹی  سنبھا ل پارہی ہےاور نہ ہی خاندان کے اتحاد کو قائم کرپارہی ہے ۔