Bharat Express DD Free Dish

Tamil nadu

کپل سبل نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی جماعت کے پاس واضح اکثریت نہیں ہے، اس لیے آئینی روایت اور سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کے مطابق سب سے بڑی پارٹی کو پہلے حکومت بنانے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق گورنر کو ٹی وی کے کے سربراہ وجے کو مدعو کر کے حلف دلانا چاہیے اور پھر اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے مناسب وقت دینا چاہیے۔

اب تمل ناڈو میں وجے کے معاملے کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جہاں یدیورپا کو پہلے حلف اور بعد میں اکثریت ثابت کرنے کا موقع دیا گیا تھا، وہیں وجے سے پہلے ہی مکمل اکثریت کے ثبوت مانگے جا رہے ہیں۔

اداکار وجے کے مداحوں کے درمیان یہ خبرپھیل گئی کہ وہ آج جمعرات کو نہرو انڈوراسٹیڈیم میں حلف لینے جا رہے ہیں، ایسے میں بڑی تعداد میں لوگ بسوں یا دیگرسواریوں سے اسٹیڈیم پہنچ گئے، لیکن جب وہ وہاں پہنچے توانہیں دروازے بند ملے تو انہیں بڑی مایوسی ہوئی۔

سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ ریاست کی دو بڑی حریف جماعتیں، ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے، ممکنہ طور پر ایک اتحاد قائم کر سکتی ہیں تاکہ ٹی وی کے کو اقتدار میں آنے سے روکا جا سکے۔ اگر یہ اتحاد حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو اسے تمل ناڈو کی سیاست میں ایک غیر معمولی اور تاریخی پیش رفت تصور کیا جائے گا۔

معروف موسیقار اے آر رحمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں وجے کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ نئی قیادت کرپشن سے پاک، سماجی انصاف اور مساوات پر مبنی سیاست کو فروغ دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ چنئی کو فن اور خوشحالی کا مرکز بنانے کا خواب ضرور پورا ہوگا۔

انتخابات میں اسٹالن کو ذاتی طور پر بھی بڑا دھچکا لگا ہے۔ وہ اپنی روایتی کولاتھور نشست سے شکست کھا گئے، جہاں انہیں وی ایس بابو نے ہرایا۔ یہ نتیجہ ریاستی سیاست میں بڑی تبدیلی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق کسی موجودہ وزیر اعلیٰ کی اپنی نشست سے شکست ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔

ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق کانگریس نے پانچوں ریاستوں میں مجموعی طور پر 461 امیدوار میدان میں اتارے تھے، لیکن رجحانات کے مطابق پارٹی صرف تقریباً 91 نشستوں پر آگے چل رہی ہے، جو کہ مجموعی نشستوں کا قریب 20 فیصد بنتا ہے۔ اس صورتحال نے سیاسی مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا کانگریس بتدریج اپنی قومی حیثیت کھو رہی ہے۔

جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے ملک کی مختلف ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج سے قبل اہم سیاسی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی، کیرلم میں کانگریس اور تمل ناڈو میں ایم کے اسٹالن کامیابی حاصل کریں گے۔

مغربی بنگال میں 16 اضلاع کی 152 اسمبلی نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔ یہ نشستیں سیاسی لحاظ سے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں اور ریاست بھر میں انتخابی ماحول اپنے عروج پر ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں ان نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔

تمل ناڈو کے ضلع ویرودھونگر میں ایک پٹاخہ فیکٹری میں پیش آنے والے ہولناک دھماکے نے پورے علاقے کو دہلا کر رکھ دیا۔ اس افسوسناک حادثے میں کم از کم 19 مزدوروں کی جان چلی گئی، جبکہ کئی دیگر شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ حادثے پر وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ وہیں وزیر اعظم مودی نے بھی اس حادثے پر دکھ کا اظہار کیا ہے اور جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔