Bharat Express DD Free Dish

Tamil nadu

تریشا کرشنن چنئی کے جواہر لعل نہرو انڈور اسٹیڈیم میں منعقدہ حلف برداری تقریب میں نیلی ساڑھی پہن کر شریک ہوئیں۔ تقریب کے دوران جب ایک میڈیا اہلکار نے ان سے کہا کہ ’’یہ تمل ناڈو کے لیے ایک بڑا دن ہے‘‘ تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ’’جی ہاں،

جیسے ہی کیرتھنا اسٹیج کے قریب پہنچیں، پرنسپل سیکریٹری سرینواسن نے ان سے ہاتھ کے اشارے سے لازمی ’’الیکشن سرٹیفکیٹ‘‘ طلب کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ  خاتون وزیر یہ دستاویز پیش نہ کر سکیں۔ اس دوران دونوں کے درمیان مختصر گفتگو بھی ہوئی،

پرکاش راج کا یہ بیان خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے کیونکہ انتخابات کے دوران وہ کھل کر وجے کی حمایت میں سامنے آئے تھے۔ جب وجے کو حکومت بنانے کا موقع نہ دیے جانے پر سوال اٹھ رہے تھے، تب بھی پرکاش راج نے عوامی فیصلے کا احترام کرنے کی بات کہی تھی۔

وجے کا وزیر اعلیٰ بننا تمل ناڈو کی سیاست میں ایک تاریخی تبدیلی مانا جا رہا ہے۔ تقریباً چھ دہائیوں سے ریاست میں ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے درمیان اقتدار کی جو روایت چلی آ رہی تھی، اس کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں ٹی وی کے نے پہلی ہی بار شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 234 میں سے 108 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ بعد ازاں مختلف جماعتوں کی حمایت کے بعد وجے کو 121 ارکان کی تائید حاصل ہوئی،

وی سی کے کے ترجمان کے کے پاولن نے کہا کہ پارٹی سربراہ تھروماولن آج شام 4 بجے ٹی وی کے کو حمایت دینے یا دنے پر حتمی فیصلہ کا اعلان کریں گے۔ وی سی کے چاہتی ہے کہ پارٹی سربراہ تھول تھروماولون کو نائب وزیراعلیٰ بنایا جائے۔ اس کے علاوہ پارٹی اپنے نومنتخب اراکین اسمبلی کے لئے کابینی وزیر کا عہدہ بھی مانگ رہی ہے۔

ٹی وی کے سربراہ وجے نے تمل ناڈو کے گورنر سے مل کرحکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، وجے کے پاس 121 اراکین اسمبلی کی حمایت ہے۔ تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کے زیرقیادت اتحاد میں بائیں بازو کی دونوں جماعتیں سی پی آئی اورسی پی ایم نے کہا کہ حمایت کا فیصلہ اس لئے کیا گیا ہے کہ بی جے پی کو پچھلے دروازے سے ریاست میں داخل ہونے سے روکا جائے۔

تمل ناڈو میں سی پی آئی، سی پی ایم اور وی سی کے نے ٹی وی کے کو حمایت دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے ساتھ ہی وجے کی پارٹی اکثریت کے اعدادوشمار تک پہنچ گئی ہے۔ وجے نے گورنر سے ملاقات کا وقت مانگا ہے، لیکن ابھی انہوں نے ملاقات کا وقت نہیں دیا ہے۔

کپل سبل نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی جماعت کے پاس واضح اکثریت نہیں ہے، اس لیے آئینی روایت اور سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کے مطابق سب سے بڑی پارٹی کو پہلے حکومت بنانے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق گورنر کو ٹی وی کے کے سربراہ وجے کو مدعو کر کے حلف دلانا چاہیے اور پھر اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے مناسب وقت دینا چاہیے۔

اب تمل ناڈو میں وجے کے معاملے کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جہاں یدیورپا کو پہلے حلف اور بعد میں اکثریت ثابت کرنے کا موقع دیا گیا تھا، وہیں وجے سے پہلے ہی مکمل اکثریت کے ثبوت مانگے جا رہے ہیں۔