Bharat Express DD Free Dish

Tamil nadu

کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمان طارق انور نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافات، ٹوٹ پھوٹ اور رہنماؤں کی علیحدگی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کانگریس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اپنی تاریخ میں دو بڑے انشقاق کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود کانگریس نے خود کو دوبارہ منظم کیا اور اقتدار میں واپسی بھی کی۔

تمل ناڈو کی سیاست میں یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل انّاملائی نے بھارتیہ جنتا پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد ایک نئی تنظیم کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ انّاملائی کے اس فیصلے کے بعد ریاستی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے اور اب پارٹی کے کئی اہم لیڈر بھی ان کے ساتھ کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔

تمل ناڈو میں بی جے پی کے سابق ریاستی صدر کے انّاملائی نے بی جے پی سے استعفیٰ دینے کے بعد ایک سیاسی سفرکی شروعات کا اعلان کیا۔ انہوں نے عوام سے اس مہم میں ساتھ دینے کی اپیل کی۔

بی جے پی چھوڑنے اور نئی پارٹی بنانے کی قیاس آرائیوں کے درمیان تمل ناڈو بی جے پی کے سابق صدر کے انّاملائی نے پارٹی ہیڈ کوارٹر میں پارٹی صدر نتن نبین اور بی ایل سنتوش سے ملاقات کی۔ خبروں کے مطابق، پارٹی قیادت کی طرف سے ان کو کہا گیا کہ پارٹی ان کی صلاحیتوں کے مطابق ان کو ذمہ داری دیتے آئی ہے اور آگے بھی اس کے مطابق ان کو ذمہ داری دی جائے گی۔

ایبولا ایک نہایت خطرناک وائرل بیماری ہے، جو متاثرہ افراد کے جسمانی رطوبتوں یا آلودہ سطحوں سے سیدھے رابطے کے ذریعے پھیلتی ہے۔ اگرچہ تمل ناڈو میں ابھی تک کوئی کیس سامنے نہیں آیا، پھر بھی حکام کے مطابق بڑھتے بین الاقوامی سفر کے پیش نظر زیادہ چوکسی اور تیاری کی ضرورت ہے۔

اس کے بعد تصویر کو مختلف اے آئی ڈٹیکشن ٹولز کے ذریعے چیک کیا گیا۔ ‘سائٹ انجن’ نامی ٹول نے تقریباً 65 فیصد امکان ظاہر کیا کہ تصویر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ اسی طرح ‘انڈیٹیکٹیبل’ ٹول نے بھی تصویر کو مشکوک قرار دیا۔ بعد میں ‘ہائیو موڈریشن’ کی رپورٹ میں 92.9 فیصد امکان ظاہر کیا گیا کہ یہ تصویر اے آئی سے بنائی گئی ہے۔

ریاست کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں، چاہے وہ ڈی ایم کے ہو یا اے آئی اے ڈی ایم کے نے اپنے انتخابی منشور میں شراب بندی یا شراب کی دکانوں میں کمی کا وعدہ کیا تھا، لیکن عملی طور پر اس سمت میں زیادہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ تھلاپتی وجے کے اس فیصلے کو عوامی مطالبات کی سمت میں ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے۔

تریشا کرشنن چنئی کے جواہر لعل نہرو انڈور اسٹیڈیم میں منعقدہ حلف برداری تقریب میں نیلی ساڑھی پہن کر شریک ہوئیں۔ تقریب کے دوران جب ایک میڈیا اہلکار نے ان سے کہا کہ ’’یہ تمل ناڈو کے لیے ایک بڑا دن ہے‘‘ تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ’’جی ہاں،

جیسے ہی کیرتھنا اسٹیج کے قریب پہنچیں، پرنسپل سیکریٹری سرینواسن نے ان سے ہاتھ کے اشارے سے لازمی ’’الیکشن سرٹیفکیٹ‘‘ طلب کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ  خاتون وزیر یہ دستاویز پیش نہ کر سکیں۔ اس دوران دونوں کے درمیان مختصر گفتگو بھی ہوئی،

پرکاش راج کا یہ بیان خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے کیونکہ انتخابات کے دوران وہ کھل کر وجے کی حمایت میں سامنے آئے تھے۔ جب وجے کو حکومت بنانے کا موقع نہ دیے جانے پر سوال اٹھ رہے تھے، تب بھی پرکاش راج نے عوامی فیصلے کا احترام کرنے کی بات کہی تھی۔