’’ہم سی ایم کے کام طے نہیں کرسکتے‘‘، تمل ناڈومیں وجے کو معاوضہ تقسیم کرنے سے روکنے والی ڈی ایم کے کی عرضی سپریم کورٹ سے خارج
سپریم کورٹ نے تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ وجے کو کرور حادثہ کے متاثرین سے مل کرمعاوضہ تقسیم کرنے اورنوکری کا خط دینے سے روکنے والی عرضی کو خارج کردی ہے۔ ججوں نے ڈی ایم کے کے وکیل سے کہا کہ وہ عدالت کوسیاسی لڑائی کا اسٹیج نہ بنائیں۔ اگربرسراقتدارٹی وی کے کے لیڈرحادثے سے متعلق بیان دے رہے ہیں توڈی ایم کے بھی اس کے جواب میں بیان دے سکتی ہے۔
Tamil Nadu CM C. Joseph Vijay: تمل ناڈو میں 300 نئی بسوں کا آغاز، وزیراعلیٰ جوزف وجے نے کیا افتتاح
وزیراعلیٰ سی جوزف وجے نے 300 نئی ڈیزل اور سی این جی بسوں کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ افتتاح کے بعد وہ خود بھی ایک نئی بس میں سوار ہوئے اور سفر کا تجربہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ڈرائیوروں سے ملاقات کی، انہیں مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ بس کی اگلی نشست پر بیٹھ کر سفر کرتے ہوئے ویڈیو ریکارڈنگ کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔
Birthday wish: وزیر اعظم مودی نے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کو سالگرہ پر پیش کی مبارکباد، وجے کا فلمی دنیا سے سیاست تک کا سفر
سال 2024 میں وجے نے اپنی سیاسی پارٹی "تملگا ویٹری کڑگم" (ٹی وی کے) قائم کی اور عملی سیاست میں قدم رکھا۔ 2026 کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں ان کی جماعت نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریاست کی سب سے بڑی پارٹی کا درجہ حاصل کیا ۔ٹی وی کے نے 234 رکنی اسمبلی میں 108 نشستیں جیتیں۔
Tariq Anwar On TMC: ٹی ایم سی میں جو موقع پرست ہیں، وہ پارٹی چھوڑ دیں گے، برے وقت میں ہی سچے کارکنوں کی پہچان ہوتی ہے: طارق انور
کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمان طارق انور نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافات، ٹوٹ پھوٹ اور رہنماؤں کی علیحدگی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کانگریس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اپنی تاریخ میں دو بڑے انشقاق کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود کانگریس نے خود کو دوبارہ منظم کیا اور اقتدار میں واپسی بھی کی۔
Tamil Nadu BJP Vice President Karuna Nagarajan Leave Party: انّاملائی کے بعد تمل ناڈو بی جے پی کو ایک اور بڑا جھٹکا، ریاستی نائب صدر کرونا ناگراجن سمیت کئی لیڈروں کا استعفیٰ، نئی تحریک میں شمولیت کا اعلان
تمل ناڈو کی سیاست میں یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل انّاملائی نے بھارتیہ جنتا پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد ایک نئی تنظیم کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ انّاملائی کے اس فیصلے کے بعد ریاستی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے اور اب پارٹی کے کئی اہم لیڈر بھی ان کے ساتھ کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔
K Annamalai Resign News: بی جے پی سے استعفیٰ کے بعد کے انّاملائی نے کیا نئی پارٹی بنانے کا اعلان، کہا-’میرے دل میں وزیراعظم مودی کے لئے…‘
تمل ناڈو میں بی جے پی کے سابق ریاستی صدر کے انّاملائی نے بی جے پی سے استعفیٰ دینے کے بعد ایک سیاسی سفرکی شروعات کا اعلان کیا۔ انہوں نے عوام سے اس مہم میں ساتھ دینے کی اپیل کی۔
بی جے پی چھوڑنے کی قیاس آرائیوں کے درمیان نتن نبین اور بی ایل سنتوش سے ملے انّاملائی، راجیہ سبھا جانے کو ہوگئے تیار؟
بی جے پی چھوڑنے اور نئی پارٹی بنانے کی قیاس آرائیوں کے درمیان تمل ناڈو بی جے پی کے سابق صدر کے انّاملائی نے پارٹی ہیڈ کوارٹر میں پارٹی صدر نتن نبین اور بی ایل سنتوش سے ملاقات کی۔ خبروں کے مطابق، پارٹی قیادت کی طرف سے ان کو کہا گیا کہ پارٹی ان کی صلاحیتوں کے مطابق ان کو ذمہ داری دیتے آئی ہے اور آگے بھی اس کے مطابق ان کو ذمہ داری دی جائے گی۔
High Alert in Tamil Nadu Amid Rising Ebola Threat: ایبولا کے بڑھتے خطرے کے پیشِ نظر تمل ناڈو میں ہائی الرٹ، ایئرپورٹس اور اسپتالوں میں نگرانی کی گئی سخت
ایبولا ایک نہایت خطرناک وائرل بیماری ہے، جو متاثرہ افراد کے جسمانی رطوبتوں یا آلودہ سطحوں سے سیدھے رابطے کے ذریعے پھیلتی ہے۔ اگرچہ تمل ناڈو میں ابھی تک کوئی کیس سامنے نہیں آیا، پھر بھی حکام کے مطابق بڑھتے بین الاقوامی سفر کے پیش نظر زیادہ چوکسی اور تیاری کی ضرورت ہے۔
Fact Check: راہل گاندھی کے پیر چھونے والی وجے کی وائرل تصویر میں ہوا بڑا انکشاف
اس کے بعد تصویر کو مختلف اے آئی ڈٹیکشن ٹولز کے ذریعے چیک کیا گیا۔ ‘سائٹ انجن’ نامی ٹول نے تقریباً 65 فیصد امکان ظاہر کیا کہ تصویر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ اسی طرح ‘انڈیٹیکٹیبل’ ٹول نے بھی تصویر کو مشکوک قرار دیا۔ بعد میں ‘ہائیو موڈریشن’ کی رپورٹ میں 92.9 فیصد امکان ظاہر کیا گیا کہ یہ تصویر اے آئی سے بنائی گئی ہے۔
Vijay’s 1st big CM Move: تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ بنتے ہی تھلاپتی وجے کا بڑا فیصلہ، 15 دنوں میں 717 شراب کی دکانیں بند کرنے کا حکم
ریاست کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں، چاہے وہ ڈی ایم کے ہو یا اے آئی اے ڈی ایم کے نے اپنے انتخابی منشور میں شراب بندی یا شراب کی دکانوں میں کمی کا وعدہ کیا تھا، لیکن عملی طور پر اس سمت میں زیادہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ تھلاپتی وجے کے اس فیصلے کو عوامی مطالبات کی سمت میں ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے۔





