Bharat Express DD Free Dish

T20 World Cup

شمرون ہیٹمائر نے 34 گیندوں میں 85 رن بنائے جس میں 7 چوکے اور 7 چھکے شامل ہیں۔  ہٹمائر کے علاوہ رومن پاویل نے 35 گیندوں میں 59 رن بنائے جس میں 4 چوکے اور 4 ہی چھکے شامل ہیں۔ ویسٹ انڈیز نے شاندار بلے بازی کی بدولت 254 رن کا اسکور بنایا اور زمبابوے کے سامنے جیت کے لیے 255 رن کا ہدف دیا ہے۔

پاکستانی ٹیم سست پچ کا فائدہ اٹھانے کے لیے مضبوط اسپن اٹیک کے ساتھ میدان میں اتر سکتی ہے۔ ٹیم میں عثمان طارق، صائم ایوب، ابرار احمد، شاداب خان اور محمد نواز جیسے اسپنرز موجود ہیں، جو انگلینڈ کی بیٹنگ لائن اپ کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں،

ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے درمیان اب تک چار ٹی20 بین الاقوامی میچز کھیلے گئے ہیں جن میں ویسٹ انڈیز نے تین جبکہ زمبابوے نے ایک کامیابی حاصل کی ہے۔ دونوں ٹیمیں آخری بار 2013 میں ٹی20 فارمیٹ میں آمنے سامنے آئی تھیں۔

کپتان سوریہ کمار یادیو دو چوکوں کی مدد سے 18 رنز بنانے کے بعد کوربن بوش کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ واشنگٹن سندر 11 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ہاردک پانڈیا 17 گیندوں پر 18 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ رنکو سنگھ نے کیشو مہاراج پر بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش کرتے ہوئے گیند سیدھی ٹرسٹن اسٹبس کے ہاتھ میں جا لگی اور وہ اپنا کھاتہ بھی نہ کھول سکے۔

پلے کیلے میں سپر-8 مرحلے کے میچ میں ول جیکس نے سری لنکا کے خلاف شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ 4 اوور میں 3 وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ 21 رنوں کی اہم اننگز بھی کھیلی۔

147 رنز کے تعاقب میں سری لنکا کی ٹیم 95 رنز پر ڈھیر، انگلینڈ کے گیند بازوں کے سامنے سری لنکن بلے باز زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے اور ٹیم وقفے وقفے سے وکٹیں گنواتی رہی۔ انگلیند کی جانب سے فل سالٹ کی 62 رنز کی شاندار اننگز۔

بابر کے علاوہ فخر زمان بھی نیوزی لینڈ کے خلاف اچھا تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے 17 میچوں میں 439 رنز بنائے ہیں اور ان کا اسٹرائیک ریٹ 134 سے زائد رہا ہے، تاہم موجودہ ورلڈ کپ میں انہیں پلیئنگ الیون میں مستقل موقع نہیں مل سکا۔

دوسری جانب زمبابوے نے بھی اس ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی سے سب کو متاثر کیا ہے۔ کپتان سکندر رضا کی قیادت میں ٹیم نے اپنے ابتدائی دو میچ جیتے۔ زمبابوے نے عمان کو 8 وکٹوں سے جب کہ آسٹریلیا کو 23 رنز سے شکست دی۔

پاکستان کے سلامی بلے باز صاحبزادہ فرحان نے ناقابل شکست سنچری اسکور کرتے ہوئے 58 گیندوں پر 100 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں 11 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے جبکہ اسٹرائیک ریٹ 172 رہا۔ یہ ان کے ٹی20 انٹرنیشنل کیریئر کی پہلی سنچری تھی۔

یوراج سمرا اس پرفارمنس کے ساتھ ٹی20 ورلڈ کپ میں سب سے کم عمر میں نصف سینچری بنانے کا اعزاز بھی حاصل کر چکے ہیں، جس میں انہوں نے بنگلہ دیش کے جنید صدیقی (19 سال اور 325 دن) کو پیچھے چھوڑ دیا۔