Bharat Express DD Free Dish

T20 World Cup

انہوں نے صرف بیٹنگ ہی نہیں بلکہ بولنگ میں بھی عمدہ کارکردگی دکھائی اور تین اوورز میں 28 رنز دے کر دو اہم وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی آل راؤنڈ کارکردگی نے نہ صرف انگلینڈ کو کامیابی دلائی بلکہ پاکستان کرکٹ ٹیم اور اس کے کروڑوں شائقین کے لیے بھی خوشخبری ثابت ہوئی۔

بھارت اگر سیمی فائنل میں جگہ بنانا چاہتا ہے تو اسے ہر حال میں ویسٹ انڈیز قومی کرکٹ ٹیم کے خلاف فتح حاصل کرنا ہوگی۔ کولکاتا کے ایڈن گارڈنز میں کھیلے جانے والے اس اہم مقابلے میں جو ٹیم کامیاب ہوگی وہ براہِ راست سیمی فائنل میں پہنچ جائے گی۔

پاکستان کے اس وقت ایک پوائنٹ ہے۔ اگر پاکستان ہفتہ کے روز سری لنکا کے خلاف اپنے میچ میں بڑی کامیابی حاصل کر لیتا ہے تو اس کے بھی تین پوائنٹس ہو جائیں گے۔ ایسی صورت میں بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر پاکستان سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

بھارت کی جانب سے ارشدپ سنگھ سب سے کامیاب گیندباز رہے جنہوں نے 24 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیے، جبکہ ورون چکرورتی، اکشر پٹیل اور شیوم دوبے نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

کپتان ایڈن مارکرم نے کوئنٹن ڈی کوک کے ساتھ پہلے وکٹ کے لیے 8 اوورز میں 95 رنز کی شاندار شراکت قائم کی۔ کوئنٹن ڈی کوک نے 24 گیندوں پر 4 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 47 رنز بنائے۔ اس کے بعد ایڈن مارکرم نے ریان رکلٹن کے ساتھ دوسرے وکٹ کے لیے ناقابل شکست 82 رنز کی شراکت قائم کی اور ٹیم کو آسان فتح دلائی۔ 

ابھیشیک 30 گیندوں میں 4 چھکوں اور اتنے ہی چوکوں کی مدد سے 55 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے جب کہ کپتان سوریا نے 13 گیندوں میں 5 چوکوں کی مدد سے 33 رنز بنائے۔

یہ سپر-8 مرحلے میں جنوبی افریقہ کی مسلسل دوسری کامیابی ہے، جس کے بعد ٹیم گروپ اے میں پہلی پوزیشن پر پہنچ گئی ہے اور اس کا نیٹ رن ریٹ +2.890 ہو گیا ہے۔ جنوبی افریقہ کی اس بڑی جیت سے بھارتی ٹیم کو بھی فائدہ پہنچا ہے، کیونکہ اب سیمی فائنل میں رسائی کے لیے بھارت کو اپنے باقی دونوں میچ جیتنا ہوں گے جبکہ نیٹ رن ریٹ کا دباؤ کم ہو گیا ہے۔

اگر نیوزی لینڈ اپنے اگلے میچ میں انگلینڈ کو شکست دے دیتا ہے تو اس کے پوائنٹس پانچ ہو جائیں گے اور وہ گروپ میں سرفہرست پہنچ جائے گا۔ اس صورت میں انگلینڈ چار پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے گا اور پاکستان سیمی فائنل کی دوڑ سے مکمل طور پر باہر ہو جائے گا ۔

انگلش کپتان نے 51 گیندوں پر 100 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جس میں 10 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے۔ ول جیکس نے 23 گیندوں پر 28 رنز کا اہم تعاون دیا۔ پاکستان کی جانب سے گیندبازی میں شاہین آفریدی نے 30 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ عثمان طارق نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

فرحان نے گروپ اسٹیج کی اپنی شاندار فارم کو انگلینڈ کے خلاف بھی جاری رکھا۔ ایک اینڈ سے وکٹ گرنے کے باوجود وہ کریز پر ڈٹے رہے اور 45 گیندوں میں 63 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ اپنی اس اننگز کے دوران فرحان نے 7 چوکے اور 2 چھکے لگائے۔